’رشتہ نہیں ہو رہا وزیراعظم ایکشن لیں‘، پورٹل پر شکایت

پورٹل پر اب تک 10 لاکھ سے زائد شہری رجسٹر ہو چکے ہیں۔ فوٹو: ٹویٹر
عوامی شکایات کے براہ راست ازالے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے سٹیزن پورٹل پر جہاں لاکھوں لوگ اپنے مسائل سامنے لا رہے ہیں وہیں شہری غیر متعلقہ اور عجیب شکایات بھی کر رہے ہیں۔
اس سال فروری میں پاکستان ائیر فورس کی طرف سے انڈین طیارہ گرائے جانے کے بعد اس کے گرفتار پائلٹ ابھینندن کو دوسرے ہی دن رہا کر دیا گیا تھا۔ اس حکومتی فیصلے کے خلاف پاکستان میں درجنوں  لوگوں نے سٹیزن پورٹل پر شکایات درج کروائیں۔
سٹیزن پورٹل پراجیکٹ کے سربراہ عادل صافی کے مطابق کم از کم 25 شکایات ایسی موصول ہوئیں جن میں ابھینندن کا نام انگریزی میں درست سپیلنگ کے ساتھ لکھا گیا تھا جبکہ نام کے غلط سپیلنگ کے ساتھ کی جانے والی شکایات اس کے علاوہ ہیں۔ تاہم ان کو پورٹل کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ ان کا یہ ’مسئلہ‘ حل نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ سٹیزن پورٹل پر اب تک 10 لاکھ سے زائد شہری شکایات کے لیے اپنا اندراج کروا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق شہریوں کی جانب سے درج کروائی جانے والی شکایات کا ازالہ 41 دن کے اندر اندر کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے 28 اکتوبر 2018 کو ملکی تاریخ میں پہلی بار آن لائن عوامی شکایات کے اندراج کے لیے سٹیزن پورٹل کا افتتاح کیا تھا جس کے تحت درج ہونے والی شکایات کا ازالہ بھی کیا گیا۔


غیر متعلقہ شکایات کرنے کے باوجود پورٹل پر تاحال کسی کو بھی مستقل بلاک نہیں کیا گیا۔

صافی کے مطابق پاکستان میں آگاہی نہ ہونے کے باعث شہری عوامی مسائل کے بجائے غیر متعلقہ شکایات بھی بڑی تعداد میں رجسٹر کروا دیتے ہیں۔ گذشتہ نو ماہ میں پورٹل پر لاکھوں کی تعداد میں شکایات درج کروائی گئیں ان میں سے چند خاصی عجیب تھیں۔
ان کے بقول لاہور کے ایک شہری نے اپنا رشتہ نہ ہونے پر وزیراعظم کو شکایت کی۔ شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ وہ شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں مگر ان کی والدہ جان بوجھ کر ان کا رشتہ نہیں کروا رہیں۔
تاہم ان کا مسئلہ حکومتی دائرہ کار سے باہر ہونے کی وجہ سے حل نہیں کروایا جا سکا۔
کراچی کے ایک شہری نے فروری کی پاک، انڈیا فضائی جھڑپ کے بعد شکایت درج کروائی کہ اس کے پھوپھا نے ان سے ملنے آنا ہے اس لیے ملک کی فضائی حدود کو کھولا جائے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی وجہ سے بند کی جانے والی فضائی حدود کھولی نہ جا سکی اور شہری کے پھوپھا کراچی نہ پہنچ پائے۔
پنجاب کے ایک گاوں سے لاہور منتقل ہونے والے ایک شہری نے پورٹل پر سوال پوچھا کہ شہر میں اچھا کرائے کا گھر کہاں سے ملے گا۔ تاہم انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے پراپرٹی ڈیلر سے ہی رابطہ کرنا پڑے گا۔
صافی کے مطابق اس طرح کی شکایات کی وجہ یہ ہے کہ سٹیزن پورٹل کی سہولت بغیر ٹرائل کے پورے ملک میں فوری طور پر کھولی گئی تاکہ عام شہریوں کو ریلیف دیا جا سکے۔
’یہ اپنی نوعیت کی واحد مثال ہے جہاں اتنا بڑا پراجیکٹ نو ماہ کے اندر اندر سوچا گیا، بنایا گیا اور چلایا گیا۔‘
صافی نے بتایا کہ غیر متعلقہ شکایات کرنے کے باوجود پورٹل پر تاحال کسی کو بھی مستقل بلاک نہیں کیا گیا۔

شیئر: