کنٹرول لائن پر سیزفائر کی خلاف ورزیاں:انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق لائن آف کنٹرول پر انڈین فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری سرفراز احمدجاں بحق ہوگیا۔ دفتر خارجہ نے بدھ کو شہری کی ہلاکت پر اسلام آباد میں انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرلیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل ساﺅتھ ایشیا اور سارک ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے انڈین فورسز کی جانب سے سیز فائر کی بالا اشتعال خلاف ورزیوں اور ہاٹ اسپرنگ سیکٹر کے گاﺅں میں شہری کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ۔
 بیان میں کہا گیا کہ انڈین فورسز لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر مسلسل شہری آبادی کو آرٹلری فائر، مارٹر اور جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ 2017 سے سیز فائرکی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔ اس عرصے میں 1970 مرتبہ سیز فائر کی خلاف وزری کی جا چکی۔ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ انڈین فورسز کی طرف سے شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا افسوسناک ہے جو عالمی انسانی حقوق، انسانی وقار اورانسانیت سے متعلق قوانین کے منافی ہے ۔
ترجمان نے بیان میں مزید کہا کہ انڈیا کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اس سے اسٹریٹجک غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ انڈیا2003 میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کی احترام کرے ۔ اس واقعہ اور سیز فائر خلاف ورزیوں کے دیگر واقعات کی تحقیقات کرائی جائے۔ انڈین فورسز کو ہدایت کی جائے کہ وہ سیز فائر معاہدے کا حقیقی معنوں میں اس کی روح کے مطابق احترام اور لائن آف کنٹرول ،ورکنگ باﺅنڈری پر امن قائم کرے۔
 

شیئر: