’جب فارم ہاؤس سے مگر مچھ بھاگ گئے‘

سندھ کے ساحلی شہر کراچی کے مضافات میں واقع سٹیل ٹاؤن کے قریب ایک فارم ہاؤس سے پانچ مگر مچھ بھاگ گئے تھے جنہیں ایک دن کی تگ و دو کے بعد محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے ڈھونڈ نکالا۔
والڈ لائف آفیسر عدنان نے مگر مچھوں کو پکڑنے کے آپریشن کی سربراہی کی۔ 
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ جمعرات کو سٹیل ٹاؤن میں واقع ایک پرائیویٹ فارم ہاؤس کی دیوار گر گئی جس کے نتیجے میں فارم ہاؤس میں موجود سات مگر مچھوں میں سے پانچ بھاگ نکلے اور قریبی برساتی نالے میں جا چھپے۔
اطلاع ملنے پر محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے موقعے پر پہنچ کہ آپریشن شروع کیا، تین مگرمچھ تو فوراً ہی مل گئے جب کے باقی دو کو کچھ تگ و دو کے بعد پکڑ کر واپس فارم ہاؤس میں پہنچا دیا گیا ہے۔
عدنان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی پہلی ترجیح مگر مچھوں کو باحفاظت ان کی جگہ پر پہنچانا تھا تا کہ وہ لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔
ان کے مطابق اب جلد ہی ان مگر مچھوں کو فارم ہاؤس سے منتقل کر دیا جائے گا۔

مگر مچھوں کو محکمہ وائلڈ لائف اپنی تحویل میں لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گھر میں جانور رکھنے کے لیے جو لائسنس دیا جاتا ہے اس کا مقصد ہوتا ہے کہ آپ بے ضرر اور ایسے جانور اور پرندے رکھیں جن سے خوشی اور راحت ملتی ہے، نہ کہ ایسے جانور جو خوف کا باعث بنیں۔
عدنان نے بتایا کہ فارم ہاؤس کے مالک شیراز کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ خود ہی یہ مگر مچھ محکمہ وائلڈ لائف کی تحویل میں دے دیں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اسی فارم ہاؤس کے مالک نے اخبار میں اشتہار دیا تھا کہ ’ان کی گاڑی سے شیر کا بچہ گر گیا ہے ڈھونڈ کر لانے والے کو انعام دیا جائے گا۔‘
وائلڈ لائف عہدیدار نے واضح کیا کہ آبادی کے بیچ ایسے جانوروں کی موجودگی عوام کے لیے خطرے کا باعث ہے اس لیے کسی ایسے جانور کا لائسنس نہیں جاری کیا جاتا۔
فارم ہاؤس پہ موجود مگرمچھ مارش نسل کے ہیں جو تازہ پانی میں پائے جاتے ہیں۔

شیئر: