’چھپکلیوں کو بھی جینے کا حق ہے‘

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کے گھر یا کمرے میں کوئی چھوٹا سانپ یا چھپکلی آئی ہو جس نے گھر والوں کی دوڑیں لگوادی ہوں اور اس جانور کو دیکھنے کے بعد آپ سہم بھی گئے ہوں؟ یقیناً ایسا کئی بار ہوا ہوگا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا ہوگا کہ اس قسم کا جانور دیکھ کر آپ فوراً انہیں مارنے کے لیے دوڑے ہوں گے یہ جانے بغیر کہ ایسا جانور آپ کو کوئی خطرہ پہنچا بھی سکتا ہے یا نہیں۔
پاکستان کے چند نوجوان مل کر جنگلی حیات اور رینگنے والے جانوروں کے تحفظ کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔
یہ نوجوان لوگوں کو آگاہی فراہم کر رہے ہیں کہ کون سے رینگنے والے جانور بالکل بے ضرر ہیں اور لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ نوجوان ان جانوروں کے حوالے سے معاشرے میں پائے جانے والے  توہمات اور غلط تاثرات کو بھی زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 ان نوجوانوں نے رینگنے والے جانوروں کے حوالے سے آگاہی دینے کے لیے فیس بک پر ایک پیج بنایا ہے جو دن بہ دن مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بارے میں جارحانہ رویوں اور ان سے وابستہ خوف کا بھی قلع قمع کر رہا ہے۔
 'رینگنے والے جانوروں کی دنیا‘ نامی پیج صرف ڈھائی ماہ میں سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوا ہے۔
اس پیچ کے بانی لاہور کے رہنے والے فہد ملک نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اور ان کے ساتھیوں کا ہدف یہ ہے کہ نیچر کو بچایا جائے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کیا جائے۔
’اس وقت پورے ملک میں ہمارے 50 کے قریب ساتھی پھیلے ہوئے ہیں جو اپنے شوق اور جذبے کی خاطر  نیچر اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
فہد کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ ماحول میں رہنے والی چھوٹی سی چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک کوئی بھی بلاوجہ پیدا نہیں ہوا۔ ’انکا بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا۔‘
فہد نے بتایا کہ ان کے کام کی وجہ سے  اب ان کے پاس مکمل ڈیٹا موجود ہے کہ پاکستان میں سانپوں کی کتنی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ’اس وقت پاکستان میں سانپ کی صرف 20-25 اقسام رہ گئی ہیں جو کہ افسوس ناک بات ہے کیونکہ چند دہائیاں قبل سانپ کی 67-77 اقسام یہاں پائی جاتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ ہمارے ہاں سانپ کی اقسام دن بہ دن ختم ہورہی ہیں۔
'رینگنے والے جانوروں کی دنیا' پیج پر جو سب سے ذیادہ دلچسپ پوسٹس ہوتی ہیں وہ چھپکلی یا گوہ کے بارے میں ہوتی ہیں۔ فہد نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں چھپکلی کے حوالے سے بہت سی غلط باتیں مشہور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چھپکلی میں زہر ہوتا ہے، اگر وہ دودھ میں گر جائے اور کوئی اس دودھ کو پی لے تو وہ مرجائے گا۔ یہ بالکل غلط ہے اس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چھپکلی کے جلد کے اوپر ایک بیکٹیریا ہوتا ہے اور اگر وہ کسی مشروب میں گرجائے اور کوئی اس کو پی لے تو صرف اسہال کا خطرہ ہوتا ہے۔

رینگنے والے جانوروں کے تحفظ کی جدوجہد فہد نے تقریباً دو سال تک اکیلے ہی کرتا رہا۔

لوگوں میں ایک اور وہم ایک چھوٹے سے سانپ جسے اندھا سانپ بھی کہا جاتا ہے کے حوالے پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سانپ بہت چھوٹا اور بے ضرر ہے لیکن لوگ اسے  زہریلا سمجھ کر بے دردی سے مار دیتے ہیں۔
فہد کا کہنا ہے کہ انکے پیج بننے کے بعد اب لوگ انہیں کال کرتے ہیں اور تصاویر بھیج کر پوچھتے بھی ہیں کہ یہ سانپ خطرناک تو نہیں۔
رینگنے والے جانوروں کے تحفظ کی جدوجہد فہد تقریباً دو سال تک اکیلے ہی کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اکھٹا کرکے فیس بک پیچ بنا کر اسے آگے بڑھایا۔
 والنٹیرز کی ایک بڑی ٹیم کے ساتھ ساتھ انکے پاس ماہرین بھی موجود ہیں جو مختلف اقسام کے جانوروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کس جانور کی قسم کونسی ہے، اسکا سائنسی نام کیا ہے اور آیا کہ وہ زہریلا ہے کہ نہیں۔
فہد کا کہنا ہے کہ انکی کوششوں کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ احتیاط کرنا چھوڑدیں۔ ’بلکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ جنگلی حیات کا خیال رکھیں اور اگر انہیں اپنے گھر یا قریب پائیں تو بجائے انہیں پکڑنے کی کوشش کرنے یا مارنے کے فوراً ریسکیو 1122 والوں کو اطلاع دیں۔‘

شیئر: