عید کے دن تین دوستوں کا جنازہ

عید سے ایک روز قبل کراچی میں موسلا دھار بارش جاری تھی، ڈیفنس فیز ون کے علاقے میں رات سے بجلی غائب تھی، شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا تھا، سڑکیں زیر آب تھیں، ایسے میں ڈیفنس گارڈن کے رہائشی تین دوست موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے باہر نکلے۔
ان کا ارادہ ایک اور دوست کے پاس جانے کا تھا کیونکہ وہاں بجلی آرہی تھی لیکن ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ بجلی نے انہیں آ لیا۔
سڑک کنارے نصب ایک کھمبے میں کرنٹ کی وجہ سے پانی میں بھی کرنٹ تھا اور بائیک پر سوار تینوں دوست پانی میں گر گئے۔
یہ تینوں حمزہ، طلحہ اور فیضان تھے، جو بچپن کے دوست اور ایک ہی بلڈنگ کے رہائشی تھے۔
قریب کھڑے لوگوں نے تینوں کو بچانے کی بہت کوشش کی، پانی میں رسی اور لکڑی پھینکی مگر کرنٹ کی گرفت سخت تھی۔ ایسے میں مقامی لوگوں نے کراچی الیکٹرک کمپنی کو بجلی بند کرنے کے لیے متعدد کالز بھی کیں مگر فائدہ نہ ہوا۔
آخر میں جب بجلی بند ہوئی تو ایک پولیس موبائل کے ذریعے تینوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ واقعہ ڈیفنس کے علاقے نشاط کمرشل کے قریب سابق صدر پرویز مشرف کی بیٹی عائلہ مشرف کے گھر کے عین سامنے پیش آیا، انہوں نے ٹیرس پہ کھڑے یہ حادثہ دیکھا تو فوراً اپنے ملازمین کو مدد کے لیے بھیجا تاہم پانی میں کرنٹ کی شدت کے سامنے وہ بھی بے بس نظر آئے۔ 
ہلاک ہونے والے حمزہ طارق کی والدہ راحیلہ طارق نے بتایا کہ وہ ہمت کر کے اس جگہ بھی گئیں جہاں یہ واقعہ ہوا تھا اور عائلہ مشرف سے بھی ملیں۔ لوگوں کی باتوں سے انہیں پتہ چلا کہ جب ان کے بیٹے کو پولیس موبائل میں ڈالا گیا تو اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔

حمزہ، طلحہ اور فیضان بچپن کے دوست تھے اور ایک ہی بلڈنگ کے رہائشی تھے۔

’لوگوں نے ایک گڑھا کھود کے اسے اس میں لٹایا، اس پہ مٹی ڈالی تا کہ کرنٹ کا اثر کچھ کم ہو سکے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جب میں وہاں گئی تو میں نے وہ گڑھا دیکھا، مجھے اس میں اپنے بیٹے کی نشانی ایک چپل ملی جو میں لے کر آگئی، دوسری تو پانی میں بہہ گئی۔‘
وہاں موجود سکیورٹی گارڈز نے حمزہ کی والدہ کو بتایا کہ اس کھمبے میں کرنٹ کی شکایت پہلے بھی کے الیکٹرک کو کی جا چکی تھی تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
حمزہ، طلحہ اور فیضان کی عمریں 20 سے 23 سال کے درمیان تھیں، ان کے محلے کے ایک اور دوست عبدل ودود کے مطابق یہ تینوں بچپن سے ایک ہی عمارت میں رہتے تھے۔
طلحہ کا گھر پہلی منزل پر ہے جبکہ حمزہ اور فیضان کا گھر بالترتیب دوسری اور تیسری منزل پر۔ ہلاک ہونے والے تینوں لڑکے اپنے گھروں کے اکلوتے بیٹے تھے۔ حمزہ کی ایک بہن ہیں جبکہ فیضان کی دو چھوٹی بہنیں ہیں۔
حمزہ کی والدہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس کے کمرے کے سوئچ بورڈ میں کرنٹ آ رہا تھا تو ان کے کہنے پہ حمزہ نے اس پہ ٹیپ لگا دی تھی اور کہا تھا کہ بعد میں تبدیل کر دے گا۔ ’اب وہ سوئچ بورڈ اسی حالت میں ہے اور خود حمزہ کرنٹ لگنے سے اس دنیا میں نہیں رہا۔‘
حمزہ کی والدہ کے مطابق تینوں دوستوں نے عید کے حوالے سے تیاریاں کر رکھی تھیں، جانور بھی لے آئے تھے، مگر عید کی نماز کے ساتھ ان کے جنازے پڑھائے گئے۔
حمزہ کی بہن مریم کا کہنا تھا کہ ان کا ایک نہیں بلکہ تین بھائی انتقال کر گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر حمزہ نہیں ہوتا تھا تو وہ طلحہ یا فیضان کو کام کہہ دیتی تھیں۔ ان کی والدہ نے بھی بتایا کہ ان کے تین بیٹے تھے، ایک نہیں ہوتا تو وہ دوسرے کو بلا لیتیں۔ ’تینوں ہر کام ساتھ ہی کرتے تھے، حتیٰ کہ ان کی موت بھی ساتھ ہوئی۔‘
رواں برس کراچی میں مون سون کی بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں 25 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تمام ہلاکتوں کا ذمہ دار شہر کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔

کے الیکٹرک کے حکام کرنٹ لگنے سے اموات کے واقعات کا ذمہ دار کیبل اور انٹرنیٹ آپریٹرز کو ٹھہراتے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے ’کے الیکٹرک‘ کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مقدمے میں وہ دفعات شامل کی ہیں جن سے کے الیکٹرک پہ کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
فرحان وزیر جو حمزہ، طلحہ اور فیضان کے محلے دار ہیں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے زبردستی جلد بازی میں مقدمہ درج کروایا ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ مقدمہ درج کرواتے وقت میئر کراچی وسیم اختر وہاں موجود تھے اور انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ مقدمہ ’کے الیکٹرک‘ کے خلاف ہے اور ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو سزا دلوائی جائے گی تاہم بعد میں انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
کراچی کے درخشاں تھانے میں حمزہ کے والد طارق بٹ کی مدعیت میں دفعہ 322 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تعزیرات پاکستان کے مطابق دفعہ 322 قتل کے بدلے میں خون بہا ادا کرنے کا کہتی ہے تاہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ انہیں پیسے نہیں انصاف چاہیے۔
فیضان کی بہن رمیسہ نے اردو نیوز  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خون بہا نہیں چاہیے، اگر ’کے الیکٹرک‘ کے پاس اتنے ہی پیسے ہیں تو وہ بجلی کے کھمبوں کی مرمت کر لیں تا کہ آئندہ لوگوں کی ہلاکت نہ ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے انہیں بارش بہت اچھی لگتی تھی، مگر اب بارش کا ایک قطرہ گرتے ہی وہ یہ سوچ کے سہم جاتی ہیں کہ اس بارش میں ان کے بھائی کی جان گئی۔
لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں اور دفعہ 302 اور  324 بھی لگائی جائے۔ 
ہلاک ہونے والے لڑکوں کے لواحقین اور اہلِ علاقہ نے ’کے الیکٹرک‘ کی غفلت کے خلاف باقاعدہ احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔

رواں برس کراچی میں مون سون کی بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں 25 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شروع میں تحریک کا آغاز سوشل میڈیا پر کیا گیا اور اب ’کے الیکٹرک‘ کے دفتر کے سامنے احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ حمزہ کی والدہ راحیلہ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اپنے تینوں بچوں کا انصاف نہیں ملا تو وہ ’کے الیکٹرک‘ کے دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گی۔
حمزہ کی بہن مریم نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے انہیں کافی مدد ملی اور واقعے کے عینی شاہدین نے بھی ان سے رابطہ کیا جو شاید سوشل میڈیا کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔
دوسری جانب ’کے الیکٹرک‘ نے ان تمام واقعات پہ موقف اپنایا ہے کہ کرنٹ کی وجہ ان کے کھمبوں پہ لگے کیبل اور انٹرنیٹ کنیکشنز ہیں۔ انہوں نے شہر کے ناقص انفراسٹرکچر کو بھی مورود الزام ٹھہرایا ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی کنڈوں، کیبل اور انٹرنیٹ کی تاروں کی وجہ سے ان کا حفاظتی سسٹم متاثر ہوتا ہے جس کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں۔
پولیس کی جانب سے ان حادثات کی تفتیش کی جا رہی ہے لیکن ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اس سے مطمئن نہیں۔ ابھی تک پولیس کی جانب سے تفتیشی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، توقع کی جا رہی ہے کہ منگل تک پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔
ڈیفنس گارڈن میں بجلی 28 گھنٹے بعد بحال ہوئی تو ان تینوں دوستوں کے جنازے پڑھے جا رہے تھے۔ 

شیئر: