ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کیسے اور کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران بھی ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی بات کی تھی اور اس وقت پاکستان نے اس پیش کش کا خیر مقدم کیا تھا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ثالثی قبول کرنے سے قبل پاکستان کو اس کی شرائط سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے ورنہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بین الاقوامی معاملات میں ثالثی کیا ہوتی ہے؟

انسایئکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق ثالثی وہ عمل ہے جس کے ذریعے کسی تنازعے کے حل اور اختلافات میں کمی کے لیے تیسرے فریق کی مدد لی جاتی ہے۔ بین الاقوامی تنازعات پر ثالثی کی گنجائش اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود ہے اور اس کے چھٹے باب میں ثالثی کا ذکرکیا گیا ہے۔  اس باب کے آرٹیکل 33 کے مطابق رکن ممالک کوشش کریں گے کہ جن تنازعات سے بین الاقوامی امن کو خطرہ لاحق ہو ان کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور ثالثی کا راستہ اختیار کریں۔ اگر ممبر ممالک مذاکرات یا ثالثی سے تنازع حل نہ کر پائیں تو انہیں چارٹر کے آرٹیکل 37 کے مطابق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنا ہوتا ہے جہاں کونسل یا جنرل اسمبلی تنازعے کا حل تجویز کرتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل مصطفیٰ اعوان نے ٹرمپ کی ثالثی کو ایک جال قرار دیا ہے، تصویر: اے ایف پی

ٹرمپ کے فون سے ثالثی ہو جائے گی کیا یہ مذاق ہے؟

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے فون سے ثالثی نہیں ہو جاتی۔ ’کشمیر کا جو مسئلہ 70 سال سے حل نہیں ہوا کیا وہ ایک فون کال سے حل ہو جائے گا؟ کیا یہ مذاق ہے؟ اگر ایسے ہونا ہوتا تو فلسطین کا مسئلہ اب تک حل نہ ہو جاتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کے لیے سب سے پہلے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے وہ اس وقت ہو گا جب مودی حکومت انڈیا کے زیراہتمام کشمیر سے کرفیو ہٹائے گی اور لوگوں کی زندگی آسان بنائے گی۔
’ ثالثی ایسے نہیں ہوتی۔ اس کا باقاعدہ فریم ورک ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 6 میں ثالثی کا طریق کار واضح کیا گیا ہے۔‘
ہمارے ذہن بس ایک لفظ کے پیچھے دوڑنے لگ جاتے ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا کہ ٹرمپ فون کرے گا اور ثالثی ہو جائے گی۔
اگر ثالثی ہو تو اس کے اصول متعین کرنا ہوں گے کہ اس کا طریق کار کیا ہو گا۔ تمام اطراف کے سفارت کار بیٹھیں گے اور اس پر کام کریں گے۔

ماہرین نے سوال اٹھایا کہ ثالثی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ہو رہی ہے یا اور راستہ نکالا جا رہا ہے؟ تصویر: اے ایف پی

ثالثی کی پیش کش ایک جال ہے

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائڑڈ) غلام مصطفی نے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کو ایک جال قرار دیا ہے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی ایک ٹریپ ہے مودی کی حمایت کے لیے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان انڈیا کی طرف سے کشمیر پر یک طرفہ اقدام کو ہضم کر لے اور مودی کا کام آسان ہو جائے۔
ریٹائرڈ جنرل کے مطابق مودی کا اصل منصوبہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو بھی ہضم کرنا ہے اور صدر ٹرمپ اس منصوبے میں معاونت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی ’ثالثی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

شرائط جانے بغیر ثالثی قبول کرنے سے ملک کا نقصان

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک سینیئر پاکستانی سفارت کار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ثالثی اچھی چیز ہے مگر ٹرمز آف انگیجمنٹ واضح ہونا ضروری ہیں۔ کیا ثالثی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ہو رہی ہے یا کوئی اور راستہ نکالا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ثالثی کی شرائط پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تصویر: اے ایف پی

ان کا کہنا تھا کہ شرائط واضح کیے بغیر پاکستان کی طرف سے ثالثی کو خوش آمدید کہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ’کیا پتا مودی اور ٹرمپ کے درمیان کیا بات طے ہو چکی ہے اور اگر ہم پہلے ہی رضامند ہو گئے تو ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی بات ہم سے منوا لی جائے جو ہمارے مفاد میں نہ ہو۔
سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی باتوں میں ایک بار بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس لیے پاکستان کو تھوڑی وضاحت مانگنی چاہیے کہ ثالثی کی شرائط کیا ہیں۔ ’اگر ہم نے من و عن بات مان لی تو ہمیں نقصان ہو گا۔

ثالثی کی شرائط کو پارلیمنٹ میں لایا جائے: اپوزیشن

اپوزیشن کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ثالثی کی شرائط و ضوابط کو پارلیمان میں لے کر آئے تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ وہ ملک کے مفاد میں ہیں کہ نہیں۔
’پاکستان کشمیر پر ثالثی کا ہمیشہ حامی رہا ہے اور انڈیا اس سے گریز کرتا رہا ہے تاہم ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس ثالثی کا مقصد اور نتیجہ کیا ہے اور اس کی شرائط کیا ہیں۔ اس کے خدوخال عوام کے سامنے لائے جائیں۔‘
انہوں نے کہا ٹرمپ کی طرف سے بار بار ثالثی کی بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکی صدر اپنے اتحادی انڈیا کے ایسے ارادوں سے باخبر ہیں جن سے ہم لاعلم ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان میں تناؤ جب بھی بڑھا کسی نہ کسی شکل میں ثالثی ہمیشہ ہوتی رہی ہے چاہے اسے انڈیا مانے یا نہ مانے۔

دفتر خارجہ کا موقف

پاکستان نے ٹرمپ کی تازہ ترین پیش کش پر ابھی تک تبصرہ نہیں کیا اور اردو نیوز کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے اس حوالے سے  اپنا موقف نہیں دیا۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کا پاکستان نے باقاعدہ خیر مقدم کیا تھا۔  23 جولائی کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹرمپ کی پیش کش کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انڈیا کو بھی اس معاملے میں بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

شیئر: