Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: تین صدیوں کی داستان بیان کرتی یومِ تاسیس کی پانچ علامتیں

سعودی عرب آج اپنا 299 واں یومِ تاسیس منا رہا ہے جس کی بِنا امام محمد بن سعود نے 1727 میں رکھی تھی۔ یہ دن متقاضی ہے کہ نہ صرف سعودی عرب کی تاریخ پر نگاہِ بازگشت ڈالی جائے بلکہ اُن علامتوں پر کا بھی ذکر کیا جائے جو طویل سعودی تاریخ کو ملحض کر کے دیرپا معانی دیتی ہیں۔
تقاریب اور خوشیاں ایک طرف، مملکت کے سرکاری یومِ تاسیس سے متعلق علامات کی ایک طویل کہانی ہے۔ یہ کہانی سخت منظر نامے، ناموافق حالات میں خود کو بچانا، ریاست کو قائم کرنا اور تین سو برس تک اپنی اقدار کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔ یہ سب باتیں مل کر ایک ایسی وژوئل زبان کو جنم دیتی ہیں جو ماضی کا رشتہ حال سے جوڑ دیتی ہے اور اعتماد سے بھرپور مستقبل کی نوید سناتی ہے۔
یومِ تاسیس کی وہ پانچ علامتیں جن کی بات کی جا رہی ہے اُن میں سبز پرچم، کھجور کا درخت، عربی النسل گھوڑے، بازار یا سُوق اور فالکن (باز یا شکرہ) شامل ہیں۔ مگر یہ علامتیں صرف خوشیوں کی تقریب کے لیے نہیں ہیں۔
اسماعیل عبداللہ ھجلس روایتی فنِ تعمیر میں ریسرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے عرب نیوز سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ علامتیں ایک فکری اور ثقافتی کردار کی حامل ہیں جو معاشرے کو اس کی اصل سے جوڑ دیتا ہے۔
’وہ اقوام جنھوں نے اپنی علامتوں کو اچھی طرح سمجھا ہے اور ان کی شناخت کی ہے اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اپنے سفر کو اعتماد اور توازن کے ساتھ جاری رکھنے کے ضروری لوازمات سے لیس ہیں۔‘
سبز سعودی پرچم اور یومِ تاسیس میں اس کی اہمیت
سعودی پرچم، اتحاد اور خود مختاری کا نمائندہ ہے اور اُن اقدار کو مجسم کرتا ہے جن پر سعودی ریاست قائم ہوئی تھی۔ یہ مملکت کے تسلسل کا بھی اظہار ہے۔
اس پرچم کا موجودہ ڈیزائن سنہ 1937 میں اختیار کیا گیا تھا جس کا مقصد پہلی اور دوسری سعودی ریاست کے تاریخی پرچموں کو بہتر شکل دینی تھی۔
الشہادہ جو اسلام میں ایمان کے اقرار کا کلمہ ہے، اس بات کی علامت ہے کہ مملکت کی بنیاد اسلامی اقدار پر ہوگی۔ تلوار وہ علامت ہے جو شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے دور سے مملکت کے اتحاد کی نمائندہ ہے اور ممکت میں انصاف اور محفاظت کی علامت ہے۔
سعودی پرچم کا سبز رنگ روایتی طور پر اسلام سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ سعودی ریاست میں ایمان کے تسلسل کا مرکزی ستون ہے۔ یوں مل کر یہ علامتیں طاقت، نظامِ انصاف اور اتحاد کی حفاظت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اسماعیل ھجلس کے مطابق ’علامتوں کا انتخاب کسی کی مرضی سے نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے گہری سوچ کار فرما ہے۔ تلوار اصل میں طاقت کو ظاہر کرتی ہے جبکہ کھجور کا درخت زندگی اور پائیداری کا اظہار ہے۔ ان علامتوں سے محتاط انداز میں قائم کیا گیا توازن اور فیاضی دونوں ظاہر ہوتے ہیں۔‘
کھجور کا درخت، اس کے پتے اور شاخیں
کھجور کے درخت کا علامتی وجود، موجودہ جدید ریاست سے پہلے کا ہے۔ یہ جزیرہ نمائے عرب کی قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔
’اس سادہ نخلستان میں، کھجور کا درخت زندگی کا عکاس تھا اور تلوار وقار اور شان کی آئینہ دار تھی۔ کجھور کے درخت سے سائے اور سستانے کا کام لیا جاتا تھا جبکہ تلوار کو اپنے نام اور اپنی زمین کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لہٰذا سعودی ریاست کی داستان، تلوار کی دھار سے کھجور کے درخت میں ملنے والی چھاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔‘
کھجور کے درخت سے طرح طرح کے کام لیے جاتے تھے جو تہذیب کے پائیدار ہونے کے لیے لازمی تھے۔ کھجور غذائیت سے بھرپور خوراک کا کام دیتی تھی، اس کے بڑے بڑے پتوں سے گھروں کی چھتیں بنائی جاتی تھیں، اس کے تنے سے دیواریں بنتی تھیں اور اس میں موجود فائبر سے رسی تیار کی جاتی تھی۔ علاوہ ازایں، کھجور کی شاخوں اور تنوں کو ایندھن، اور لوگوں کو سایہ دینے کے کام لایا جاتا تھا۔
ھجلسں نے بتایا کہ القطیف اور الاحسا میں، کھجور کے تنے سے زندگی کا نظام چلایا جاتا تھا۔ یہ محض زراعتی علامت نہیں بلکہ پائیداری کے لفظ کے استعمال سے پہلے سے ہی پائیداری کا ایک اصل ماڈل تھا۔
قرآنِ پاک میں 20 سے زیادہ مرتبہ کھجور کا ذکر ہوا ہے جہاں اس کا مفہوم فیاضی اور کثرت پر منتج ہوتا ہے۔ کھجور کا درخت عرب کے مشرقی حصوں کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثییت رکھتا تھا۔
یومِ تاسیس پر سُوق کس چیز کی علامت ہے
عبداللہ ھجلس کہتے ہیں ’سوق (جسے روایتی طور پر مارکیٹ کہتے ہیں) صرف کاروبار کی جگہ نہیں تھی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں لوگ آپس میں ملتے جلتے تھے، ان میں سماجی رشتے قائم ہوتے تھے، معلومات کا تبادلہ اور یگانگت بھی سُوق ہی سے موجودہ تصورات میں ڈھلے ہیں۔ سوق سے معاشی سرگرمیوں نے نمو پائی اور اِسی کے باعث کمیونیٹیوں کے مابین تعلق نے جنم لینا شروع کیا اور نظام کو مضبوط بنایا۔
اسلام سے کئی سو سال قبل سُوق ایک تہذیبی تصور کے طور پر ابھرا۔ یہ ایک سادہ انسانی ضرورت یعنی تبادلے) رقم یا اجناس دے کر بدلے میں چیزیں لینے کا تصور)۔ اس تبادلے نے سماجی تحرک کو جِلا بخشی اور کشادگی کے اس کلچر کو شروع کیا جو بعد میں شہروں میں اضافے کا باعث بن گیا۔
اسلام سے پہلے کے زمانے میں موسم کے لحاظ سے لگائی جانے والی مارکیٹیں جن میں سُوقِ عکاظ، سُوقِ مجنّہ اور سُوقِ المجاز اہم حیثیت کی حامل ہیں، صرف کاروباری مراکز کا کام نہیں دیتی تھیں بلکہ یہ ادبی فورم بھی تھے، یہاں سیاست پر بات ہوتی تھی اور اِنہی مقامات پر تنازعات میں صلح صفائی اور ثالثی ہوا کرتی تھی۔
جب سرزمینِ حجاز کو اسلام نے اپنے دامن میں لے لیا تب سُوق المدینہ کا آغاز ہوا جہاں اجارہ داری کو روک دیا گیا، دھوکہ دہی پر ممانعت کا حکم آگیا اور انصاف کی تلقین اور اس کے قیام پر آیاتِ مقدسہ نازل ہوئیں۔
آج سعودی ریاست میں سُوق، اپنی مٹی اور لکڑی سے راویتی طور پر ڈھکے ہوئے بازار سے جدید شاپنگ سینٹرز اور بڑے بڑے تجارتی کمپلیکسوں میں بدل چکا ہے۔
ھجلس کے بقول ’پھر بھی اس کا تصور وہی قدیم ہی رہا ہے یعنی یہاں پہلے لوگ آمنے سامنے ہوتے ہیں (سماجی طور پر ملتے اور علیک سلیک کرتے ہیں) اور بعد میں یہ خرید و فروخت کی جگہ بن جاتی ہے۔‘
گھوڑا اور اس کی علامتی توجیہ
عربی النسل گھوڑا بھی یومِ تاسیس کی ایک علامت ہے اور اس کا تعلق اصلی ہونے اور حوصلے سے پیوست ہے۔ جب ریاست کا قیام ابتدائی مراحل میں تھا تو گھوڑا بہت کام آتا تھا۔ اسے سفر تو کبھی دفاع کے لیے استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے عرب کی میراث میں گھوڑا، قوت اور فخر کی ایک علامت بن گیا۔
عرب میں جنم جنم کا ساتھی، عربی النسل گھوڑا دنیا میں سب سے قدیم اور سب سے خالص نوع ہے۔ اس کی پرورش جزیرہ نمائے عرب میں کی جاتی تھی تاکہ یہ ہر قسم کے دشوار حالات اور سختیوں کو جھیلنے کا عادی ہو جائے۔ یہ برق رفتار بھی ہو اور چُست اور پُھرتیلا بھی۔
اپنی زبردست قوتِ برداشت، قوی پھیپھڑوں، طاقتور ٹانگوں اور مضبوط ہڈیوں کی وجہ سے یہ گھوڑے سخت موسمی حالات میں صحرا کے طویل فاصلے طے کرتے تھے اور انتہائی محدوود وسائل کے باوجود زندہ رہتے تھے۔ کبھی کبھی تو ان کی خوراک صرف کھجور اور اونٹنی کا دودھ ہوتا تھا۔
موسموں کی شدت اور چوری سے بچانے کے لیے، گھوڑوں کو بعض اوقات خاندانی خیمے کے اندر ہی باندھ دیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے رفتہ رفتہ گھوڑے اپنے مالکوں سے مانوس ہونے لگے۔ عربی گھوڑے بے خوف، وفادار اور جنگوں میں اپنے سوار کو بچانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان گھوڑوں میں جنگوں کا احساس بھی ہوتا تھا چنانچہ میدانِ جنگ میں گھوڑے ذہانت کے ساتھ متحرک ہوتے اور اُن میں لڑائی کا جذبہ بھی تیز ہو ہوتا تھا۔
سعودی عرب میں عربی گھوڑے سفر، کاروبار و تجارت، اور جنگ وجدل کے لیے انتہائی ضروری سمجھے جاتے تھے۔ آج یہ فخر، نجابت، جرآت اور عزت کی علامت ہیں اور جدید مملکت کی اس پرانی روایت کو گھڑ دوڑ کی صورت میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یومِ تاسیس کی ایک علامت فالکنری بھی ہے
فالکن جسے چھوٹا باز یا شکرہ بھی کہہ دیتے ہیں، چوکس رہنے، چیزوں کو جانچنے کی فطری صلاحیت اور بلند عزم رکھنے کے نمائندے کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
ھجلس بتاتے ہیں ’اس پرندے کا تعلق فالکنری سے جڑا ہوا ہے جس میں صبر اور مہارت درکار ہوتی ہے۔ آج یہ سعودی ورثے کے تسلسل اور بلند ہمت اور چیزوں کے حصول کی علامت ہے۔ ‘
فالکنری محض ایک شوق نہیں تھا بلکہ صحرا کے مشکل ترین ماحول میں شکار کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ صحرا نشیں عربوں کا ساتھی اور طاقت، نشانے کو ٹھیک ٹھیک ہدف بنانے اور صبر کا نمائندہ تھا۔ فالکن کا ماہر بننے کے لیے طویل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے سکھانے والوں میں نظم و ضبط اور مضبوط قیادت بھی پروان چڑھتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، فالکن، وسیلۂ عزت اور شہرت کا درجہ اختیار کر چکا ہے جو صحرا نشیں عربوں کی شناخت ہوتی تھی۔ فالکن کو اس زمانے کے باوقار شخصیات پالا کرتی تھیں اور عرب داستانیں اور شاعری اس کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔
نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ مشغلہ یعنی فالکنری اب یونیسکو کی اس نمائندہ فہرست میں درج ہو چکا ہے جو ’انسانی میراث کی غیر محسوس فہرست کہلاتی ہے۔‘ اس فہرست میں سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک ہیں جس سے فالکنری کی عالمی اور ثقافتی حثییت ممتاز ہو گئی ہے۔
اسماعیل عبداللہ الھجلس نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’یہ تمام علامتیں اپنی ظاہری دلکشی کی وجہ سے نہیں چُنی گئیں۔ انھیں اس لیے اختیار کیا گیا کیونکہ صدیوں پر محیط عرصے کے دوران ان کا تجربہ ہوتا رہا ہے اور یہ طرح طرح کی آزمائشوں سے گزری ہیں۔‘
اپنے انفرادی تصور سے کہیں بڑھ کر یہ علامتیں مشترکہ طور پر ایک سعودی شہری کے اپنی زمین، اپنے ماحول، اپنے وقار اور اپنی کمیونیٹی کے ساتھ رابطے اور تعلق کا ایک اظہار ہیں۔

 

شیئر: