Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وادیٔ کیلاش میں ایک دن کا بادشاہ کیسے منتخب کیا جاتا ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی حسین وادی کیلاش میں ثقافتی سرمائی کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ ان مقامی کھیلوں میں انتو دیک، رسہ کشی، روایتی کبڈی اور سنو گالف کے کھیل شامل تھے۔ 
انتو دیک کو پہاڑی ریس بھی کہا جاتا ہے جس میں حصہ لینے والے کھلاڑی برف سے ڈھکے پہاڑوں پر دوڑتے ہیں۔
وادیٔ کیلاش کے سرمائی فیسٹیول میں سب سے منفرد کھیل سنو گالف ہے جسے مقامی زبان میں کرک گاڑ کہا جاتا ہے۔ یہ کھیل گلی ڈنڈے کی مانند کھیل ہے مگر اس میں سٹک کی مدد سے بال کو مارنا پڑتا ہے۔ یہ کھیل صرف برف کے اوپر کھیلا جاتا ہے۔
سنو گالف میں ہر گاؤں کی ٹیم شامل ہوتی ہے۔ اس کھیل میں شریک کھلاڑی پانچ کلومیٹر تک بال کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ دونوں ٹیموں میں سے سب سے پہلے 12 گول مکمل کرنے والی ٹیم کو فاتح قرار دیا جاتا ہے۔
اس کھیل کا دلچسپ پہلو میچ کے اختتام سے شروع ہوتا ہے جب ٹیم کی کامیابی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اسی لمحے مقامی روایت کے مطابق فاتح ٹیم سے کپتان کو میتار کا درجہ دیا جاتا ہے اور یوں وہ ایک دن کے لیے قبیلے کا حکمران قرار پاتا ہے۔
ایک دن کے بادشاہ کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں؟  
ایک دن کے لیے وادیٔ کیلاش کے بادشاہ کے انتخاب کے بعد جشن کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گاؤں کے تمام باشندے بادشاہ کو مبارک باد دینے پہنچ جاتے ہیں۔ 
بادشاہ کے لیے ایک بیل اور دو بکرے ذبح کیے جاتے ہیں اور پھر اس گوشت کا کھانا تیار کر کے تمام مہمانوں کو دعوت دی جاتی ہے۔
وادیٔ کیلاش کے ایک دن کے میتار کے لیے 6 افراد پر مشتمل سکیورٹی ٹیم تعینات کی جاتی ہے جن کی ذمہ داری 24 گھنٹوں تک بادشاہ کو پروٹوکول فراہم کرنا ہوتا ہے۔
مقامی باشندے عجب کیلاش نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایک دن کے لیے بادشاہ بنانا قدیم ثقافت کا حصہ ہے، اس قدیم کھیل کی روایت کے تحت بادشاہ کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔‘

کیلاش کے اِن ثقافتی سرمائی کھیلوں میں انتو دیک، رسہ کشی، روایتی کبڈی اور سنو گالف شامل تھے (فوٹو: سکرین گریب) 

’بادشاہ جو حکم دے قبیلے کے لوگ اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ ایک دن کے لیے بادشاہ کو رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔‘
رواں سال بھی سنو گالف مقابلوں کے فائنل میچ کے بعد فاتح ٹیم سے ایک کھلاڑی کو بادشاہ بنا کر جیت کا جشن منایا گیا۔ 
مقامی سرمائی میلے کی اختتامی تقریب میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال اور ڈسٹرکٹ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے افسروں سمیت سیاحوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
وادی میں آئے مہمانوں نے بھی قدیم روایات کے مطابق ایک دن کے لیے منتخب ہونے والے بادشاہ سے ملاقات کی اور جیت کے جشن سے محظوظ ہوئے۔
حکام ضلعی انتظامیہ چترال نے اس موقعے پر کہا کہ ’موسمِ سرما کے یہ کھیل نہ صرف صدیوں پُرانی روایات کا حصہ ہیں بلکہ اس وادی کی منفرد پہچان ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان کھیلوں کو مزید پذیرائی ملنی چاہیے تاکہ ان کھیلوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ مل سکے۔‘
واضح رہے کہ وادی کیلاش میں سال میں چار مختلف مذہبی تہوار منائے جاتے ہیں جن میں شرکت کے لیے ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کا رُخ کرتے ہیں۔  

 

شیئر: