راولپنڈی سے وزیراعلیٰ پنجاب کا جعلی ترجمان گرفتار

راولپنڈی کے دو نوجوانوں کو انتظامیہ اور پولیس کو ماموں بنانا مہنگا پڑ گیا۔ راولپنڈی پولیس نے دو ایسے نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے خود کو وزیراعلیٰ پنجاب کا ترجمان ظاہر کیا اور پروٹوکول دینے اور روٹ لگانے کا مطالبہ کیا۔
راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق  ناکے پر گاڑی روکے جانے پر نوجوانوں سے شناخت پوچھی گئی تو نوجوان اپنی شناخت ظاہر نہیں کر پائے جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق تھانہ نصیر آباد کو وائرلیس پر کال موصول ہوئی کہ نیو ایئرپورٹ اسلام آباد میں ایک شخص نے خود کو وزیراعلیٰ پنجاب کا ترجمان ظاہر کیا اور گولڑہ موڑ قائد اعظم ہسپتال سے سواں کیمپ تک روٹ اور پروٹوکول دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خان کے مطابق ناکے پر جب گاڑی کو روکا گیا تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھے حمزہ نامی نوجوان نے خود کو وزیراعلیٰ پنجاب کا ترجمان ظاہر کیا جب ان سے شناخت پوچھی گئی تو وہ اپنی شناخت کروانے میں ناکام رہے۔

پولیس نے دونوں نوجوانوں سے سیاہ رنگ کی لینڈ کروزر قبضے میں لے لی 

دونوں نوجوان سیاہ رنگ کی لینڈ کروزر میں سوار تھے جس پر پاکستان کا پرچم بھی لگا ہوا تھا۔
پولیس نے سیاہ رنگ کی لینڈ کروزر کو قبضے میں لے کر جعلی سرکاری اہلکار بننے کے جرم میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ نصیر آباد کے ایس آئی اظہار احمد نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی برانچ سے جب پروٹوکول اور روٹ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے تھانہ نصیر آباد کو اطلاع دی ۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی تیز رفتاری اور لاپرواہی سے چلائی جا رہی تھی جس کی وجہ سے معاملہ مشکوک ہونے کا شبہ ہوا۔ ’وزیراعلیٰ کا سٹاف اصلی ہے یا جعلی یہ چیک کرنے کے لیے چشتی آباد کے علاقے میں ناکہ لگایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ دوران تفتیش نوجوانوں نے بتایا کہ انہیں دوستوں کے کہنے پر یہ شرارت سوجھی اور پہلی مرتبہ ایسی شرارت کی ہے۔ اظہار احمد کہتے ہیں کہ ان کو پولیس میں نوکری کرتے 30 برس ہو گئے ہیں لیکن اس نوعیت کا واقعہ پہلے کبھی نہیں سنا۔

شیئر: