نصابی کتابوں میں پہلی مرتبہ ایک بہادر خاتون کا واقعہ

بقمی، عربوں کا چرواہا قبیلہ ہے جن کی سربراہ غالیہ نام کی ایک بہادر خاتون ہیں (فوٹو بشکریہ العربیہ)
سعودی عرب میں پہلی مرتبہ دو صدیاں پہلے ایک بہادر خاتون کی مزاحمت کا واقعہ نصابی کتابوں میں شامل کیا گیا ہے۔ نصابی کتابیں ترتیب دینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نئی نسل کو باور کرانا ہے کہ سعودی عرب میں عورت صرف خاتون خانہ نہیں بلکہ تاریخ ساز شخصیات بھی گزری ہیں جو ہمارے لئے فخر وناز کا باعث ہیں۔ 
العربیہ ٹی وی کی ویب کے سائٹ کے مطابق چھٹی کلاس کے بچوں کو پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتاب میں پہلی مرتبہ ایک سعودی بہادر خاتون غالیہ البقمیہ کا نہ صرف ذکر ہوا ہے بلکہ ان کی شجاعت اور تاریخی معرکے کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ 
وزارت تعلیم میں تربیت کے سعودی ماہر سلیمان الفایز نے بتایا کہ سعودی عرب میں ہم اپنی تاریخ کو از سرنو ترتیب دینے جارہے ہیں۔ نئی نسل کو اپنے وطن سے محبت اور اس کے سپوتوں سے متعارف کرایا جارہا ہے۔  

نصابی کتاب کے ایک صفحے کا عکس جس میں معرکہ کے نتائج اور غالیہ البقمی کی قیادت میں معرکے کا تخلیاتی منظر دکھایا جارہاہے

انہوں نے کہا کہ نصابی کتابوں میں بہادر خاتون غالیہ البقمیہ کا تذکرہ انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ سعودی اسکولوں میں 55 فیصد طلبات ہیں جن کے لئے غالیہ کے واقعے میں نہ صرف کئی اسباق ہیں بلکہ یہ ان کے معاشرے کا بھی حصہ ہے۔ وہ اپنے معاشرے میں غالیہ جیسی کئی خواتین دیکھتی رہتی ہیں۔ 
غالیہ البقمیہ کون ہے؟
غالیہ البقمیہ کا دور 213 سال پہلے گزرا ہے۔ یہ سعودی عرب کے شہر تربہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے عثمانی حملہ آور لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ہم وطن مردوں کے ساتھ ہر اول دستے میں رہیں۔ یہ کم وبیش سنہ 1806 کا واقعہ ہے جب عثمانی کمانڈر عثمان بیک کی قیادت میں ایک لشکر نے تربہ شہر پر چڑھائی کردی۔ 
غالیہ کے شوہر حمد بن محیی تربہ کے امیر اور لشکر کے قائد تھے۔ غالیہ نے نہ صرف اپنے ہم وطن مردوں کو پامردی سے مقابلہ کرنے پر اکسایا بلکہ لشکر کی ہر طرح سے مدد کی۔ شہر کی خواتین کو بھی جمع کیا ۔ وہ زخمی ہونے والوں کی تیمار داری کرتیں، ان کے لئے کھانا پکاتیں اور اسلحہ فراہم کرتیں رہیں۔ 
معرکے کے دوران ان کے شوہر انتقال کرگئے تو انہوں نے شوہر کے مرنے کی خبر لشکر سے چھپائے رکھی تاکہ لوگوں کے حوصلے پست نہ ہوں۔ اس اثنائ میں لشکرکی قیادت سنبھال لی اور عثمانی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا یہاں تک انہیں پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ عثمانی کمانڈر مصطفی بیک کی شکست کے بعد عثمانیوں نے غالیہ البقمیہ کو ’’جادوگر خاتون‘‘ کے نام سے یاد رکھا۔ 
مغربی مورخ یوہان پارکہارٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے’’ بقمی، عربوں کا چرواہا قبیلہ ہے جن کی سربراہی غالیہ نام کی ایک خاتون کرتی ہیں۔ یہ انتہائی بااثر اور بہادر خاتون ہیں۔ اپنے قبیلے کی مالدار خواتین میں سے ہیں ۔ وہ اپنے قبیلے کے غریبوں اور ناداروں کی فیاضی سے مددکرتی ہیں۔‘‘
  

شیئر: