’سعودی عرب کا شکریہ‘ جنوبی غزہ میں فلسطینی بچوں میں ملبوسات اور فوڈ باسکٹس تقسیم
نقل مکانی اور سخت سردی کی مشکلات کم کرنے میں مدد ملی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز نے امدادی مہم کے ایک حصے کے طور پر جنوبی غزہ کی پٹی میں متاثرہ بچوں میں موسم سرما کے ملبوسات اور فوڈ باسکٹس تقسیم کیں۔
جبکہ شاہ سلمان مرکز کے تحت 80 واں سعودی طیارہ امداد لے کر مصر کے العریش انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچا ہے۔
امدادی سامان میں فوڈ باسکٹس، اور شیلٹر کٹس موجود ہیں جو غزہ میں فلسطینوں کے مصائب کم کرنے میں سعودی امدادی مہم کا حصہ ہے۔
سعودی وزارت دفاع اور قاہرہ میں سعودی سفارتخانہ اس میں تعاون کر رہے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی سینٹر فارکلچر اینڈ ہیریٹج جوغزہ کی پٹی میں شاہ سلمان مرکز کا ایگزیکٹیو پارٹنر ہے، کی نگرانی میں فیلڈ ٹیموں کے ذریعے امداد کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا اور کہا’ اس امداد نے نقل مکانی اور سخت سردی کی مشکلات کم کرنے میں مدد دی۔‘

یاد رہے غزہ کی پٹی میں بچوں کو سرد موسم چیلنجوں کا سامنا ہے، گرم ملبوسات کی فراہمی ایک اہم انسانی ضرورت ہے۔
سعودی قیادت نے سعودی عوامی مہم کے ذریعے غزہ میں انسانی صورتحال سے نمنٹے اور مصائب کے خاتمے کےلیے فضائی، بحری اور زمینی پلوں کے ذریعے امداد کی فراہمی کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

2023 میں غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب نے امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز کے ذریعے فضائی اور بحری امدادی پل قائم کیے۔اب تک 78 طیاروں اور 8 بحری جہازوں کے ذریعے ساڑھے 7 ہزار ٹن سے زیادہ امداد فراہم کی گئی۔
اس میں خوراک، طبی سامان، آلات اور شیلٹر شامل ہیں۔ سیکڑوں امدادی ٹرک خوراک اور طبی امداد لے کرغزہ پہنچے۔ اس کے علاوہ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کو 20 ایمبولینسں فراہم کیں۔
سعودی ایجنسی نے غزہ کی پٹی میں امدادی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ 90.35 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
