Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نئے معاشی مواقع‘ گلوبل لیبر مارکیٹ کانفرنس میں 90 سے زیادہ معاہدے

کانفرنس کے اختتام پر تجزیاتی رپورٹ بھی جاری کی گئی (فوٹو: ایس پی اے)
 ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایگزبیشن سینٹر میں گلوبل لیبرمارکیٹ کانفرنس کا تیسرا ایڈیشن کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق ’فیوچر ان پروگریس‘ کی تھیم کے تحت اس کانفرنس میں دنیا بھرسے پالیسی میکرز، فکری رہنما اور ماہرین نے شرکت کی۔
 کانفرنس میں 90 سٹریٹجک معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کی سپورٹ اور چھ ملین سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچانا تھا۔
حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے درمیان  ہونے والے معاہدے سعودی عرب کے اندر اور باہر اثرات مرتب کریں گے۔
معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو چار بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں بین الاقوامی تربیتی شراکت داری، مہارتوں کا فروغ دینا، قیادت اور صلاحیتوں کو نکھارنا، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اورسروسز کو تیز کرنا، آٹومیشن حل اور سائبر سکیورٹی کا فروغ اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنا شامل تھا۔
اس کے علاوہ آزاد اور لچکدارکاموں کے مواقع بڑھائے جائیں گے تاکہ افراد کو نئے معاشی مواقع فراہم کیے جائیں۔
سعودی نائب وزیرافرادی قوت ڈاکٹر عبداللہ ابوثنین نے کہا کہ’ لیبرمارکیٹ کے مستقبل کے حوالے سے درپیش چیلنجز کے حل کے لیے کانفرنس مفید ثابت ہوئی۔‘
 ’کانفرنس کے بعد بھی لیبرمارکیٹ کے حوالے سے ماہرین اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو مستفیض کرتے رہیں گے،باہمی تعاون جاری رہے گا۔‘
کانفرنس کے اختتام پر تجزیاتی رپورٹ بھی جاری کی گئی جس کا عنوان ’لیبرمارکیٹ کی کامیابی کے لیے ضروری؟‘ ہے۔
 وزارت افرادی قوت اور ورلڈ بینک کے تعاون سے یہ رپورٹ جاری کی گئی جس کا مقصد معاشی تبدیلیوں اور تیز رفتار تبدیلیوں کی روشنی میں لیبر مارکیٹ کے موثر پروگرام کو ڈیزائن کرنے میں پالیسی سازوں کی مدد کرنا تھا۔
کانفرنس میں لیبر مارکیٹ اکیڈمی کے پہلے بیج کی گریجویشن تقریب بھی ہوئی جس میں 34 ممالک کے 36 گریجویٹس شامل تھے۔
اکیڈمی کے دوسرے بیج نے بھی اپنے کام کا آغاز کیا جس میں 31 ممالک شامل ہیں۔ ان میں سے 19 ممالک پہلی مرتبہ شریک ہیں جبکہ 12 ممالک 2025 کے ایڈیشن میں موجود تھے۔

 

 

شیئر: