’سب ٹھیک بس ’اس‘ ایک چیز کی کمی ہے‘

مکیش جتنے سدا بہار گانے بہت کم پلے بیک سنگرز نے گائے۔ وہ گیت جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا،  74 برس بعد سننے پر بھی کانوں کو بھلا محسوس ہوتا ہے اور دل پر اثر کرتا ہے۔ 
دل جلتا ہے تو جلنے دے
مکیش نے جب یہ گیت گایا، وہ کے ایل سہگل کی آواز کے سحر میں مبتلا تھے، اس گانے میں سہگل کا رنگ اس قدر گہرا تھا کہ ایک کہانی نے جنم لیا جس کے مطابق، سہگل نے جب یہ گیت سنا تو کہا، یاد نہیں پڑتا، میں نے یہ کب گایا تھا؟
موسیقار انل بسواس نے مکیش سے کہا کہ بڑا گلوکار نقال نہیں اوریجنل ہوتا ہے۔ انھی نے مکیش کو گلوکاری میں اپنا رنگ پیدا کرنے کی راہ سجھائی۔
’دل جلتا ہے، اداکار موتی لال پر فلمایا گیا۔ دلچسپ بات ہے کہ گلوکاری میں مکیش کا ٹیلنٹ سب سے پہلے انھی نے پہچانا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ مکیش نے بہن کی شادی پر کچھ گایا توسامعین میں موجود موتی لال آواز کی ندرت پر حیران رہ گئے، ان سے دہلی چھوڑ کر بمبئی کے لیے رختِ سفر باندھنے کو کہا۔ میٹرک پاس مکیش اس وقت پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔
موتی لال کی بات مان کر وہ بمبئی اٹھ آئے، جہاں اس زمانے میں نوجوان اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے رخ کرتے۔ گھر سے کوئی نوجوان بھاگ جاتا تو اہل خانہ کے ذہن میں سب سے پہلے یہ خیال آتا کہ بمبئی گیا ہوگا۔

سنہ 1965 میں ریلیز ہونے والی فلم سنگم کے گیت بے حد مقبول ہوئے

بمبئی میں انھوں نے پہلے اداکار کی حیثیت سے فلم ’نردوش‘ میں کام کیا، یہ گیت بھی گایا:
دل ہی بجھا ہوا ہو تو
فلم فلاپ ہوگئی۔ یہ سنہ 1941 کی بات ہے۔ اس کے بعد چند ایک اور فلموں میں بھی اداکاری کی مگر بات بنی نہیں۔ فلم ڈائریکشن کا شوق بھی چرایا، لیکن اس محاذ پر بھی ناکامی ہوئی۔
اصل میں گلوکاری کا میدان ان کی راہ دیکھ رہا تھا، جہاں انھوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑنے تھے۔ سنہ 1945 میں فلم ’پہلی نظر‘ میں ’دل جلتا ہے تو جلنے دے‘ کی صورت میں انھیں بڑی کامیابی مل گئی۔
 فلم ’میلا ‘ میں ’گائے جا گیت ملن کے‘ اور’انوکھا پیار‘ میں ’جیون سپنا ٹوٹ گیا‘ کو بھی پذیرائی ملی۔ دونوں گیت دلیپ کمار پر فلمائے گئے۔
دلیپ کمار پر ان کی آواز سوٹ کررہی تھی لیکن ان کے فنی سفر نے راج کپور کے ملاپ سے معراج کو پہنچنا تھا۔ ان کے گیت راج کپور پر فلمائے گئے تو یوں لگا جیسے یہ آواز انھی کے لیے وجود میں آئی ہو۔ اس فنی اشتراک کی ابتدا ’آگ‘ کے اس مقبول گیت سے ہوئی۔
زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں
اس کے بعد کامیابی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا: 
٭ چھوڑ گئے بالم (برسات)
٭ آوارہ ہوں (آوارہ)
٭ میرا جوتا ہے جاپانی ( شری 420 )
٭ بول رادھا بول (سنگم)
٭ دنیا بنانے والے (تیری قسم)
٭ جانے کہاں گئے وہ دن (میرا نام جوکر )
 فلم  ’کبھی کبھی‘ میں امیتابھ بچن پر فلمائے گئے ان کے یہ دو گیت بھی بہت مشہور ہوئے:
٭ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے 
٭ میں پل دو پل کا شاعر ہوں 

مکیش کے گیت راج کپور پر فلمائے گئے تو یوں لگا جیسے یہ آواز انھی کے لیے وجود میں آئی ہو

 مکیش کے بڑے گلوکار ہونے میں کلام نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ بڑے انسان بھی تھے۔ محبت اور درد بھرے بول ہی ان کے لبوں پر نہ تھے، ان کا دل بھی محبت اور درد سے معمور تھا۔ انیس امروہوی نے اپنی کتاب ’وہ بھی ایک زمانہ تھا‘ میں لکھا ہے کہ وہ ضرورت مندوں کی مالی اعانت کرتے۔ جاڑوں میں فٹ پاتھ کے بے آسرا مکینوں میں سیکڑوں کمبل بانٹتے۔
ایک فلم کی ریہرسل کے دوران زمین پر بیٹھے تھے، شاعر حسرت جے پوری نے ان سے صوفے پر بیٹھنے کو کہا تو جواب دیا:
’ہم سب کو ایک دن زمین پر ہی مرنا ہے۔ کوئی بھی کرسی اپنے ساتھ لے کر نہیں جائے گا۔‘
27 اگست 1976کو امریکہ میں دل کا دورہ پڑھنے سے وہ دنیا چھوڑ گئے، اس وقت ان کی عمر 53 برس تھی۔
آخری لمحات میں والدہ کو یاد کرتے رہے ۔ جس پرواز سے انھیں زندہ سلامت اپنے دیار واپس لوٹنا تھا، اس پر ان کی میت ہندوستان آئی۔ ان کی موت سے دنیائے موسیقی، پرسوز اور اور درد بھری اس آواز سے محروم ہوگئی جس نے سالہا سال دلوں کے تاروں کو چھوا تھا۔ 
مکیش نے آخری زمانے میں تلسی داس کی ’رام چرت مانس‘ کواپنی آواز میں ریکارڈ کرایا۔

لتا اور مکیش دونوں کا آئیڈیل تعلق تھا

لتا اور مکیش

دونوں کا آئیڈیل تعلق تھا۔ وہ لتا کو دیدی کہتے۔ لتا انھیں بھیا کہہ کر مخاطب کرتیں۔ عظیم موسیقار نوشاد سے لتا کو سب سے پہلے مکیش نے ملوایا۔ 
لتا نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گانے کے بیچ مکیش کو گلا صاف کرنے کی عادت تھی، اس پر وہ انھیں یہ کہہ کر چھیڑا کرتیں کہ بھیا! یہ آپ کیا کرتے ہیں؟ اس پر بیچارے مکیش فوراً کہتے، سوری دیدی دوبارہ نہیں ہوگا، اس پر لتا مسکرا کر کہتیں کہ وہ تو مذاق میں بات کررہی تھیں۔ 
پلے بیک آرٹسٹ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا تو مکیش اس کے صدر بنے۔ لتا اور منا ڈے کو وائس پریذیڈنٹ کا عہدہ ملا۔ اس تنظیم کا اجلاس لتا کے گھر بھی ہوتا جس میں وہ حقِ میزبانی بڑے اچھے طریقے سے ادا کرتیں۔ مناڈے نے لکھا ہے کہ مکیش کبھی کبھار پی پلا لیتے تھے، لتا کے گھر پینے کو شراب نہیں ملتی تھی، اس لیے جب بطور میزبان وہ ان سے پوچھتیں کہ بھیا! سب ٹھیک ہے، تو مکیش جواب  میں کہتے  کہ ہر چیز ٹھیک ہے بس ’اس‘ ایک چیز کی کمی ہے۔
امریکہ کا جو سفر مکیش کے لیے موت کا سفر بن گیا، اس میں لتا بھی ان کے ساتھ تھیں۔ ان کا وقتِ آخر تھا اور وہ لتا سے کنسرٹ کی تیاری کا کہہ رہے تھے:
’فکر نہ کرو، پریشانی والی کوئی بات نہیں ، میں ابھی انجکشن لگواتا ہوں، آپ لوگ چلیں، میں کپڑے بدل کر ابھی آتا ہوں۔‘

 مکیش کے بڑے گلوکار ہونے میں کلام نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ بڑے انسان بھی تھے

چندر شیکھر اور مکیش

مکیش کی مقولیت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ممتاز ہندوستانی سپنر چندر شیکھر ان کے دیوانے ہیں۔ان کے پرانے ریکارڈ انھوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر جمع کیے، اس کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑے شکرگزار ہیں جس سے انھیں بڑی مدد ملی۔ میدان میں وہ زیادہ تر ’جس دیس میں گنگا بہتی ہے‘ اور ’یہ میرا دیوانہ پن ہے‘ گنگناتے۔ چندر شیکھر نے مکیش کی آواز سے خود ہی حظ نہیں اٹھایا بلکہ اس کی ’لت‘ کئی ساتھی کرکٹروں اور صحافیوں کو بھی ڈالی۔
سنیل گواسکر نے لکھا ہے کہ وہ چندر شیکھر کو بولنگ کے دوران  ہلہ شیری دینے کے لیے مکیش کے گانوں کی دھن بجایا کرتے تھے۔
 سنہ1971 میں انڈیا نے انگلینڈ میں پہلی دفعہ ٹیسٹ جیتا، یہ کامیابی دلانے میں چندر شیکھر کی بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا ۔ میچ کے ڈرامائی لمحات میں بھی مکیش انھیں یاد رہے۔
ممتاز انڈین تاریخ دان مہیر بوس نے اپنی کتاب ’بالی وڈ:اے ہسٹری‘ میں لکھا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو جب وزیر اعظم تھیں تو ان کی گاڑی میں ہمیشہ مکیش کے گانے چلتے۔
ادھر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے چند سال پہلے میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال کے جواب میں فلم ’اناڑی‘ میں مکیش کے مشہورگانے کے یہ بول دہرائے تھے:
سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری
سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی

شیئر: