پبلک پراسیکیوشن میں خواتین کی بھرتی

پبلک پراسیکیوشن میں خواتین کو لیفٹیننٹ انویسٹی گیشن کے عہدے پر بھرتی کیا جائے گا
سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو پبلک پراسیکیوشن میں بھرتی کیا گیا ہے۔ خواتین کو تربیتی مراحل سے گزارنے کے بعد لیفٹیننٹ انویسٹی گیشن کے عہدے پر بھرتی کیا جائے گا۔
سعودی خبر رساں ادارے واس کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود المعجب نے بھرتی کی جانے والی خواتین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین پبلک پراسکیوٹرز مردوں کی طرح تمام ذمہ داریاں ادا کریں گی۔
سعودی پبلک پراسیکیوشن کے صدر دفتر میں ہونے والی ملاقات کے بعد شیخ سعود المعجب نے کہا کہ سعودی خواتین نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
پبلک پراسیکیوشن میں بھرتی کی جانے والی خواتین کی یہ پہلی کھیپ ہے جس کے بعد مزید خواتین کو مختلف عہدوں پر بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

 خواتین کو ایک سال کا کورس کروایا جائے گا،سراغ رسانی اور جرائم کی تحقیق کی مشق کروائی جائے گی، المعجب

انہوں نے کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خواتین کو ہر میدان میں مواقع دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ان میدانوں میں ایک پبلک پراسیکیوشن بھی ہے جہاں پہلی مرتبہ خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے۔
شیخ المعجب نے کہا بھرتی کی جانے والی خواتین کو اپنی نئی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے انجام دینے کے لئے ایک سال کے لئے ڈپلومہ کورس کروایا جائے گا۔اس عرصے کے دوران انہیں عملی تربیت کے مراحل سے بھی گزارا جائے گا۔سراغ رسانی اور جرائم کی تحقیق کی بھی مشق کروائی جائے گی۔
 

شیئر: