Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین سے آئی دو بہنوں کا گجرات میں قتل، ہسپانوی حکومت کا لڑکیوں کے والد اور بھائیوں کو سزا دینے کا مطالبہ

سپین سے گجرات لا کر قتل کی گئی دو بہنوں کے قتل کے مقدمے اور اس سے جُڑے ان واقعات جو سپین میں پیش آئے کے حوالے سے ہسپانوی استغاثہ نے قتل کی گئی لڑکیوں کے والد اور ایک بھائی کے لیے 14، 14 سال جبکہ دوسرے بھائی کے لیے آٹھ سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق استغاثہ نے ٹریسا کی عدالت میں چارج شیٹ جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ غلام عباس نے اپنی بیٹیوں عروج عباس اور انیسہ عباس کو برسوں تک سخت نگرانی، جسمانی تشدد اور ذہنی دباؤ میں رکھا۔ 
استغاثہ کے مطابق دونوں بہنوں کی زندگی ایک ایسے ماحول میں گزری جہاں انہیں نہ صرف سماجی آزادی سے محروم رکھا گیا بلکہ ان پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ خاندان کی مرضی کے مطابق اپنے کزنز سے شادی قبول کریں اور بعد ازاں اپنے شوہروں کو سپین منتقل ہونے میں مدد دیں۔ 
عدالت میں جمع کروائے گئے شواہد کے مطابق نافرمانی کی صورت میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور گھر سے باہر نکلنے تک کی اجازت محدود تھی۔
اسی مقدمے میں استغاثہ نے غلام عباس کے بیٹے شہریار کے لیے بھی 14 سال قید جبکہ اسفندیار کے لیے 8 سال قید کی سزا کی درخواست کی ہے۔
ہسپانوی پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ شہریار اس پورے معاملے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا رہا، جبکہ اسفندیار کا کردار اگرچہ نسبتاً کم لیکن معاونت کا تھا۔ 
مقدمہ اس وقت بارسلونا کے عدالتی نظام کے تحت زیرِسماعت ہے، جہاں ان جرائم کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو سپین میں پیش آئے، جبکہ قتل میں ممکنہ معاونت اور بین الاقوامی سطح پر منصوبہ بندی کے پہلوؤں کی علیحدہ تحقیقات جاری ہیں۔
استغاثہ کے مطابق دونوں بہنیں ایک طویل عرصے تک عملی طور پر گھریلو قید میں رہیں، ان کی نقل و حرکت محدود تھی اور انہیں سماجی روابط قائم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ 
رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چھوٹی بہن انیسہ عباس شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں اور انہوں نے ایک موقع پر خودکشی کی کوشش بھی کی۔
ایک اور واقعے میں وہ گھر سے فرار ہونے کے لیے بالکونی سے چھلانگ لگا کر ہمسایوں کے فلیٹ میں جا پہنچی تھیں، تاہم خاندانی دباؤ اور سماجی خوف کے باعث وہ مستقل طور پر قانونی یا سماجی مدد حاصل نہ کر سکیں۔
عروج اور انیسہ عباس اپنے والد کے ساتھ بارسلونا کے قریب رہائش پذیر تھیں اور دُہری شہریت رکھتی تھیں۔ سنہ 2021 میں ان کی شادیاں پاکستان میں اپنے کزنز سے کی گئیں، تاہم دونوں بہنیں ان رشتوں سے مطمئن نہیں تھیں اور رُخصتی سے انکاری تھیں۔ 
انہوں نے اپنے شوہروں کو سپین لانے سے بھی انکار کیا جس پر خاندان کی جانب سے دباؤ میں مزید شدت آگئی۔ ہسپانوی تفتیش کاروں کے مطابق مئی 2022 میں انہیں والدہ کی بیماری کا بہانہ بنا کر پاکستان بلایا گیا، جسے اب ایک منظم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں بہنیں 19 مئی 2022 کو پاکستان پہنچیں اور اگلے ہی روز 20 مئی کو گجرات کے نواحی گاؤں نوتھیہہ میں انہیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ 
پولیس تحقیقات کے مطابق انہیں پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں گلا گھونٹ کر اور گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ 
اس وقت کے ڈی پی او گجرات نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا تھا کہ لڑکیوں کو دھوکے سے پاکستان بلایا گیا اور بظاہر یہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے، جس میں خاندان کے کئی افراد ملوث تھے۔
پاکستان میں اس کیس کے سلسلے میں متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں دونوں شوہر، ایک چچا اور بھائی شامل تھے، تاہم بعد ازاں خاندانی معافی اور شواہد کی کمی کے باعث عدالت نے انہیں بَری کر دیا۔ 
یہی وہ پہلو ہے جس نے اس کیس کو بین الاقوامی سطح پر متنازع بنا دیا، کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہسپانوی میڈیا نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے انصاف کے نظام میں موجود کمزوریوں کی مثال قرار دیا۔
سپین میں غلام عباس کو فروری 2023 میں ٹریسا سے گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا تو کر دیا گیا مگر ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 
ہسپانوی عدالت نے اس کیس کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، ایک حصہ ان جرائم سے متعلق ہے جو سپین میں پیش آئے، جبکہ دوسرا حصہ قتل میں ممکنہ معاونت اور اس کی منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت سپین میں تارکین وطن کمیونٹیز کے اندر جبری شادی، خواتین کے حقوق اور غیرت کے نام پر تشدد جیسے مسائل پر ایک بڑی بحث کا سبب بن چکا ہے۔ 
قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ قتل پاکستان میں ہوا، تاہم اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کی بنیاد اور منصوبہ بندی سپین میں کی گئی تھی تو ہسپانوی عدالتیں اس پر سزا سنانے کا اختیار رکھتی ہیں۔ 
 

شیئر: