عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ
آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے متحدہ عرب امارات کو اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
منگل کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اضافے کی وجہ سپلائی کے حوالے سے خدشات ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز زیادہ تر بند ہے اور امریکہ کے اتحادیوں نے ٹینکروں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزارنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
برینٹ فیوچرز میں 2.62 ڈالر یا 2.61 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 102.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 2.51 ڈالر یا 2.51 فیصد بڑھ کر 96.01 ڈالر ہو گیا۔
پچھلے سیشن میں برینٹ فیوچرز کی قیمت میں 2.8 فیصد کمی ہوئی تھی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 5.3 فیصد گر گیا تھا جب کچھ جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا اہم راستہ ہے، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ (جو اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے) کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے سپلائی کی کمی، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور کے مطابق، 'خطرات بدستور موجود ہیں۔ صرف ایک ایرانی ملیشیا کی طرف سے میزائل فائر کرنا یا گزرتے ہوئے ٹینکر کے راستے میں بارودی سرنگ بچھانا پوری صورتحال کو دوبارہ بھڑکا سکتا ہے۔'
امریکہ کے کئی اتحادیوں نے پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اپیل کو مسترد کر دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجیں، جس پر امریکی صدر نے تنقید کرتے ہوئے مغربی اتحادیوں کو دہائیوں کی حمایت کے باوجود ناشکری کا الزام دیا۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق، 'فی الحال تیل کی منڈیاں اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ تنازع کتنی دیر جاری رہے گا، آبنائے ہرمز میں سپلائی کب تک معطل رہے گی، اور اس افراتفری سے خلیج میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو کتنا نقصان پہنچے گا۔'
دریں اثنا، تاجروں کے مطابق ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کی خبر نے بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے متحدہ عرب امارات، جو اوپیک کا تیسرا بڑا پیداواری ملک ہے، کو اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے اس کی پیداوار آدھی سے بھی کم ہو گئی ہے۔
ایران نے انڈیا سے فروری میں ضبط کیے گئے تین ٹینکروں کو چھوڑنے کی درخواست کی ہے، جو اس بات چیت کا حصہ ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے انڈین پرچم بردار یا انڈیا جانے والے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانا ہے۔
توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے تجویز دی ہے کہ رکن ممالک اس کے علاوہ مزید تیل جاری کر سکتے ہیں، جو پہلے ہی 400 ملین بیرل اسٹریٹجک ذخائر سے نکالنے پر متفق ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے پاس مزید کم از کم تین ہفتوں تک جنگ جاری رکھنے کے تفصیلی منصوبے موجود ہیں، جبکہ اس کی فوج نے رات کے وقت ایران میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔
