Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپ جانے والے سینکڑوں تارکین وطن بحیرہ روم میں لاپتہ، حکام معلومات چھپانے لگے

سنہ 2026 کا آغاز بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے کسی بھی سال کا سب سے مہلک آغاز ثابت ہوا ہے۔ (فوٹو: اے پی)
لاپتہ افراد کی لاشیں روزانہ ساحل پر بہہ کر آرہی ہیں۔ رشتے داروں کی فون کالز کا کوئی جواب نہیں مل رہا۔ تارکین وطن کے خیمے راتوں رات ویران ہو گئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن بڑی تعداد میں غائب ہو رہے ہیں، جسے ’غیرمرئی بحری حادثات‘ کہا جا رہا ہے، مگر تلاش و بچاؤ کی ذمہ دار حکومتیں اپنی معلومات ظاہر نہیں کر رہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرت کے مطابق سنہ 2026 کا آغاز بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے کسی بھی سال کا سب سے مہلک آغاز ثابت ہوا ہے، جہاں 16 مارچ تک 682 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم حقیقی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں ہلاکتوں کی تصدیق میں مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ اٹلی، تیونس اور مالٹا نے تارکین وطن کے لیے دنیا کے سب سے خطرناک راستے پر ریسکیو اور بحری حادثات سے متعلق معلومات محدود کر دی ہیں۔ شفافیت کے فقدان کے باعث یہ خبریں سرخیوں میں بھی کم ہی آتی ہیں۔
اطالوی تھنک ٹینک کے محقق ماتیو ولا کے مطابق ’یہ خاموشی کی حکمت عملی ہے۔‘
تنظیم ’ریفوجیز اِن لیبیا‘ اور دیگر انسانی حقوق کے گروہوں جنوری کے آخر سے خبردار کر رہے ہیں کہ سائیکلون ہیری کے بعد ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے، مگر حکام نے نہ ان رپورٹس کی تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔
طوفان کے بعد کے ہفتوں میں اٹلی اور لیبیا کے ساحلوں پر 20 سے زائد گل سڑ چکی لاشیں بہہ کر آئیں جبکہ سمندر کے وسط میں انسانی باقیات بھی دیکھی گئیں۔
لاپتہ تارکین وطن کے اہلِ خانہ کے لیے ان کا انجام نہ جاننا شدید اذیت کا باعث ہے۔
سیرا لیون سے تعلق رکھنے والے تارک وطن جوزیفس تھامس کا کہنا ہے کہ ’یورپ کو سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ سمندر میں ڈوب گئے، ان کے بھی خاندان، خواب اور جذبات تھے۔‘

یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن بڑی تعداد میں غائب ہو رہے ہیں۔ (فوٹو: اے پی)

کم معلومات، کم درج شدہ اموات

محدود معلومات کے باعث اقوام متحدہ کا ادارہ بھی ’غیرمرئی بحری حادثات‘ میں مرنے والے تارکین وطن کے کیسز کی تصدیق کرنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔
گذشتہ برس کم از کم 1500 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے جن کے بارے میں تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔ سنہ 2026 میں بھی یہی صورت حال برقرار ہے، جہاں 400 سے زائد کیسز کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
فنڈنگ میں کمی اور حکومتی پابندیوں کے باعث کئی انسانی تنظیمیں بھی معلومات کے خلا کو پُر کرنے کے قابل نہیں رہیں۔

متاثرہ ممالک کی خاموشی

تیونس، اٹلی اور مالٹا کی حکام سے بارہا رابطہ کیا گیا کہ وہ سمندر میں تارکین وطن کی مدد سے متعلق معلومات کیوں نہیں دے رہے، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔
جنوری کے آخر میں سائیکلون ہیری کے بعد یہ خاموشی مزید واضح ہو گئی، جب تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے دوران سینکڑوں افراد تیونس سے روانہ ہو کر لاپتہ ہو گئے۔

لاپتہ تارکین وطن کے اہلِ خانہ کے لیے ان کا انجام نہ جاننا شدید اذیت کا باعث ہے۔ (فوٹو: اے پی)

ایک زندہ بچ جانے والا شخص

ان کشتیوں میں سے صرف ایک شخص زندہ بچ سکا، جسے 22 جنوری کو ایک تجارتی جہاز نے سمندر سے نکالا۔ اس نے بتایا کہ وہ 50 افراد کے ساتھ سفر کر رہا تھا، جن میں سے کئی کی لاشیں پانی میں موجود تھیں۔
اطلاعات کے مطابق اسے مالٹا منتقل کیا گیا، مگر وہاں کی افواج نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی۔

 

شیئر: