عراق اور کویت میں سمندری حدود کا تنازع

عراقی سفیر نے سلامتی کونسل کے صدر کو شکایتی خط لکھا ہے
کویتی ارکان پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ سے سمندری سرحد تبدیل کرنے کی عراقی شکایت پر عملی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں متعین عراقی سفیر محمد بحر العلوم نے سلامتی کونسل کے  صدر کو ایک خط حوالے کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے سلامتی کونسل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ۔
کویتی جریدے الرای اور اخبار24کے مطابق عراقی سفیر نے خط میں شکایت کی کہ کویت نے یکطرفہ طور پر سمندری سرحد تبدیل کر لی ۔ اور سمندری سرحدوں کی نئی علامتیں نصب کر دی ہیں ۔
عراق نے کا یہ بھی کہنا تھاکہ کویت کی جانب سے متنازعہ سمندری علاقے کی سرحدوں کا تعین بین الاقوامی قانون کے منافی ہے ۔

کویتی ارکان پارلیمنٹ عراق کے موقف پر برہم ہیں

اقوام متحدہ میں متعین عراقی سفیر نے سمندری سرحدی تنازع سے متعلق اپنے ملک کا موقف واضح کرنے کےلئے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔
کویتی ارکان پارلیمنٹ نے عراق کے اس موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عراق کو اس اقدام کا عملی جواب دیا جائے ۔
کویتی رکن پارلیمنٹ اسامہ شاہین نے کہاکہ ’عراقی حکومت کا سلامتی کونسل سے رجوع کر کے شکایت کرنا اشتعال انگیز امرہے ۔عراق کی اس حرکت پر کوئی تعجب نہیں‘ ۔
 اسامہ الشاہین نے کویتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عراق کے اس اقدام کا اصولی اورعملی جواب دیا جائے۔سیکیورٹی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں اور مکمل سفارتی مہم چلائی جائے۔
کویت کی رکن پارلیمنٹ صفاءالھاشم نے عراقی شکایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’طویل عرصے سے عراق کا یہی وتیرہ رہا ہے ۔۔یہ درست ہے کہ موتیا والی آنکھ میں سرمہ لگانا خسارے کے سوا کچھ نہیں‘۔
 

شیئر: