Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر آصف زرداری امارات میں، ’تجارتی و دفاعی تعاون بڑھانے پر غور‘

ایوان صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری پیر کی شام ابوظبی پہنچے (فوٹو: ایوان صدر)
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری متحدہ عرب امارات کے چار روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
منگل کو ایوان صدر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت پیر کی شام ابوظبی پہنچے تھے، ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہے۔
بیان کے مطابق حکام سے ملاقاتوں میں تجارتی، اقتصادی اور سکیورٹی کے ضمن میں ہونے والے باہمی تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری کی اماراتی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے موقع پر علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیشرفتوں پر تبادلۂ خیال بھی متوقع ہے۔
پیر کو صدر کی روانگی کے وقت وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ اور جنوبی اشیا میں بدلتی ہوئی صورت حال کی مناسبت سے سمت کا تعین بھی کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورے کے بعد پاکستان کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں مضبوط دوستی کو باہمی مفید شراکت داری میں تبدیل کرنے کا عزم بھی ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں اور ابوظبی نے مشکل معاشی حالات میں اسلام آباد کی مدد بھی کی ہے، جس میں پاکستان کے مرکزی بینک میں ڈیپازٹس بھی شامل تھے، جن کی بدولت ادائیگیوں کے توازن میں پیدا ہونے والے بحران کے دنوں میں اسلام آباد کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملی۔
متحدہ عرب امارات چین اور امریکہ کے بعد اسلام آباد کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے پالیسی ساز اس کو جغرافیائی قربت کی وجہ سے برآمدات کے حوالے سے ایک بہترین مقام سمجھتے ہیں۔ جہاں تجارتی لین دین میں سہولت رہتی ہے اور نقل و حمل اور بار برداری کے اخراجات بھی کم رہتے ہیں۔
دونوں ملک حالیہ مہینوں کے دوران ایک دوسرے کے مزید قریب آئے ہیں اور اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
خلیجی ممالک میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین رہتے ہیں، جو سمندر پار پاکستانیوں کی سب سے بڑی کمیونیٹیز میں سے ایک ہے۔ وہ سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات اپنے وطن بھجواتے ہیں جو پاکستان کی معشیت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تجارتی اور کارکنوں سے متعلق روابط کے علاوہ بھی پاکستان اور یو اے ای نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مسلسل بڑھایا ہے، جس میں فوجی تربیت، مشترکہ مشقیں اور انسداد دہشت گردی کے خلاف اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات میں تعاون بھی شامل ہے۔

 

شیئر: