اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے موبائل فون کیمروں پر ٹیپ کیوں لگائی گئی؟
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے موبائل فون کیمروں پر ٹیپ کیوں لگائی گئی؟
بدھ 28 جنوری 2026 13:52
اسرائیلی اخبار’معاریف‘ کے مطابق سکورٹی خدشات کی وجہ سے کیمرے کور کیے جاتے ہیں: فوٹو سوشل میڈیا
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حال ہی میں ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں ان کے موبائل فون کے کیمروں پر ٹیپ لگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
العربیہ ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ بحت کی جا رہی ہے کہ موبائل فون پر ٹیپ لگانے کا مقصد کیا ہے۔
پیر کو اسرائیلی پارلیمنٹ کے اندر سے سامنے آنے والی تصاویر میں بنیامین نیتن یاہو ایک آئی فون تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس کے کیمرے ٹیپ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک اور تصویر میں بھی کال کے دوران ان کے فون کے کیمرے پر ٹیپ لگی نظر آئی۔
اسرائیلی اخبار’معاریف‘ کے مطابق نیتن یاہو نے متعدد بار یہ بتایا ہے کہ وہ موبائل فون اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ فون ان کے عملے کے پاس ہوتے ہیں اور ضرورت کے وقت انھیں فون دیا جاتا ہے۔
سکیورٹی کی وجہ سے ان موبائل فونز کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جاتا ہے۔
اسرائیل میں عام طور پر حساس عہدوں پر فائز اعلیٰ حکام ’ایپل‘ کمپنی کے فونز استعمال کرتے ہیں جبکہ معلومات کے لیک ہونے کے ڈر سے چینی فونز کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
اخبار ’معاریف‘ نے وضاحت کی کہ تمام ملازمین اور حساس فوجی یا سکیورٹی تنصیبات پر آنے والے افراد کے لیے داخلی راستوں پر یہ لازمی ہوتا ہے کہ وہ اپنے کیمروں پر ٹیپ لگائیں تاکہ ان کا استعمال نہ ہو سکے۔
سکیورٹی کی وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم کے موبائل فونز کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جاتا ہے: فوٹو سوشل میڈیا
ٹیپ ہٹانے کی صورت میں اس پر واضح نشانات رہ جاتے ہیں، جس سے سکیورٹی اہلکاروں کو یہ معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آیا کیمرا استعمال تو نہیں کیا گیا۔
اخبار کے مطابق نیتن یاہو کے معاملے میں ٹیپ لگانے کا مقصد حساس مقامات میں تصویر کشی کا خوف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد فون کے ہیک ہونے اور دور بیٹھے کسی ہیکر کی جنب سے کیمرے کو استعمال کرنے کے امکان سے بچنا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔