کشمیر: ’خاردار تاروں میں گھرا میڈیا‘

رپورٹ کے مطابق میڈیا کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جہاں شہریوں کو لاک ڈاؤن اور مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں انڈین حکومت کشمیری میڈیا کی آواز بند کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔
رواں ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رپوٹروں کی نگرانی ہو رہی ہے، ان سے غیر رسمی تفتیش کی جا رہی ہے اور انہیں حکومت مخالف رپورٹس شائع کرنے پر ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’خاردار تاروں کے پیچھے سے خبریں‘ نامی رپورٹ کے مطابق ’کشمیر میں میڈیا اپنا وجود قائم رکھنے کی تگ و دو میں ہے اور اس کی حالت بہت ہی پتلی ہے۔‘

اے ایف پی کے مطابق  انڈین سیکورٹی فورسز کے خلاف 500 احتجاجی مظاہرے ہوئے، 4000 افراد کو گرفتار کیا گیا اور پانچ شہری ہلاک ہوئے۔ فوٹو اے ایف پی

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے بڑے اخباروں میں شائو ہونے والے اداریوں میں اصل خبروں کو موضوع بنانے کے بجائے وٹامن اے کے فوائد اور ’کیا آپ کو گرمیوں میں کیفین لینی چاہیئے‘ جیسی بحث میں پھنسے نظر آتے ہیں۔
کشمیر میں میڈیا کو درپیش مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کی گئی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ میڈیا پر قدغن لگانے سے ’سرکاری موقف کی تشہیر ہو رہی جبکہ سچ کو دبایا جا رہا ہے جو بنیادی طور غیر جمہوری رویہ ہے اور نقصان دہ ہے۔‘
اس رپورٹ کو ’نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا‘ اور ’انڈیا اینڈ فری سپیچ کولیکٹو‘ نے شائع کیا ہے، جبکہ یہ رپورٹ دو کشمیری صحافیوں نے تیار کی ہے اور اس کے لیے انہوں نے 70سے زائد صحافیوں سے بات چیت کی اور مقامی شہریوں کے علاوہ لوکل انتظامیہ سے بھی گفتگو کی۔‘

رپورٹ کے مطابق میڈیا پر پابندیاں لگانا غیر جمہوری عمل ہے۔ فوٹو اے ایف پی

اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزارت اطلاعات و براڈ کاسٹنگ نے اس موضوع پر یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کردیا کہ انہوں ابھی یہ رپورٹ پڑھی نہیں ہے۔
دوسری جانب انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے سے معیشت بہتر ہوگی اور لوگوں روزگار کے موقع ملیں گے۔
تاہم زمینی حقائق انڈیا کے ان دعوں کی نفی کرتے ہیں کیونکہ پانچ اگست سے اب تک کم از کم انڈین سیکورٹی فورسز کے خلاف 500 احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، 4000 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور پانچ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

شیئر: