انڈونیشیا کے صوبے آچے میں شرعی پولیس نے ایک جوڑے کو شادی کے بغیر جنسی تعلقات استوار کرنے اور شراب نوشی کے جرم میں 140 کوڑے مارے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اس قدامت پسند خطے میں اسلامی قانون کے نفاذ کے بعد سے اب تک کی سخت ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔
آچے انڈونیشیا کا واحد صوبہ ہے جہاں شرعی قانون نافذ ہے اور وہاں غیر شادی شدہ جوڑوں کے درمیان جنسی تعلقات پر سخت پابندی ہے۔
مزید پڑھیں
-
مدینہ منورہ میں کوکین کی سمگلر خاتون کو سزائے موتNode ID: 882033
رپورٹ کے مطابق ایک پارک میں درجنوں افراد کے سامنے اس جوڑے کی کمر پر بید کے ڈنڈے سے ضربیں لگائی گئیں۔ سزا کی تاب نہ لاتے ہوئے خاتون بے ہوش ہو گئیں جس کے بعد انہیں ایمبولینس کے ذریعے لے جایا گیا۔
بانڈا آچے کی شرعی پولیس کے سربراہ محمد رضال نے بتایا کہ جوڑے کو کل 140 کوڑے مارے گئے، 100 کوڑے غیر ازدواجی تعلقات کی سزا اور 40 کوڑے شراب نوشی کی سزا کے طور پر۔
یہ سنہ 2001 میں آچے کو خصوصی (داخلی) خودمختاری ملنے کے بعد سے دی جانے والی سخت ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔

اس موقعے پر کل چھ افراد کو سزا دی گئی جن میں شرعی پولیس کا ایک اہلکار اور اس کی خاتون ساتھی بھی شامل تھے جنہیں نجی جگہ پر ’نازیبا قربت‘ کی وجہ سے 23، 23 کوڑے مارے گئے۔
محمد رضال کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا، ہم کسی کو رعایت نہیں دیتے، خاص طور پر اپنے ارکان کو۔ اس عمل سے ہماری بدنامی ہوئی ہے۔‘

آچے میں مختلف جرائم کی سزا کے لیے کوڑے مارنے کے عمل کو عوامی سطح پر کافی حمایت حاصل ہے جن میں جواء، شراب نوشی، ہم جنس پرستی اور شادی کے بغیر جنسی تعلقات استوار کرنا شامل ہیں۔
گزشتہ برس دو مردوں کو شرعی عدالت کی جانب سے جنسی تعلقات کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد سرِعام 76، 76 کوڑے مارے گئے تھے۔
![]()











