Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خالی کاغذ پر انگوٹھے لگوائے گئے‘، بھاٹی گیٹ کے واقعے میں اب تک کیا ہوتا رہا؟

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کو بھاٹی گیٹ کے قریب ایک کھلے مین ہول میں خاتون اور بچی کے گرنے کا واقعہ پیش آیا جو ابتدائی طور پر متضاد بیانات کی وجہ سے مشکوک بن گیا۔
تاہم 17 گھنٹوں کے طویل سرچ آپریشن کے بعد دونوں لاشیں برآمد ہونے پر وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز سمیت تمام ادارے متحرک ہوئے۔
واقعے کے بعد تھانہ بھاٹی گیٹ میں مرنے والی خاتون سعدیہ کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 کے تحت درج کی گئی جس میں غیر ارادی قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مقدمے میں پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو نامزد کیا گیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مین ہول کو مناسب طور پر بند نہیں کیا اور حفاظتی اقدامات میں سنگین غفلت برتی۔
اردو نیوز نے جب مدعی مقدمہ اور سعدیہ کے والد ساجد حسین سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہی دونوں ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارا پورا خاندان صدمے میں ہے۔ جمعرات کی شب ساڑھے 7 بجے کے قریب تھانہ بھاٹی گیٹ کے ایس پی، ایس ایچ او اور دیگر افسر ہمارے پاس آئے تھے۔‘
’انہوں نے ایک خالی کاغذ مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ اس پر آپ کے انگوٹھے کے نشان چاہییں۔ میں پریشانی اور غم کی حالت میں تھا، لہٰذا ایک سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگا دیا۔‘
ساجد حسین کا کہنا تھا کہ ’میں نے پوچھا تو بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں ایک غلط نام درج ہو گیا ہے اور اسے دُرست کرنے کے لیے خالی کاغذ پر انگوٹھے کا نشان درکار ہے۔‘
’مجھے بعد میں بتایا گیا کہ ٹھیکیداروں میں سے ایک کا نام ’دانیال‘ غلط لکھا گیا تھا جسے درست کرنا مقصود ہے۔ مجھ سے پانچ کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے۔‘
دوسری جانب سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وہ جب واقعے کے فوراً بعد تھانے اطلاع دینے گئے تو انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔‘ 

ترجمان لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ ’ساجد حسین کا انگوٹھا درخواست مقدمہ میں تصحیح کے لیے لگوایا گیا‘ (فائل فوٹو: اےا یف پی)

ان کا الزام ہے کہ ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس نے اُن پر تشدد کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ اعتراف کریں کہ انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچی کو قتل کیا ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق میں نے بار بار بتایا کہ میں نے دونوں کو اپنی آنکھوں سے مین ہول میں گرتے دیکھا ہے لیکن پولیس کہتی رہی کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ میرا موبائل فون بھی لے لیا گیا اور میرے کزن تنویر کو بھی حراست میں رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’واقعے کے وقت اُن کا ایک بیٹا اپنی والدہ کے ساتھ تھا۔ میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ ہم سیر کے لیے آئے تھے۔ اب میرے بچوں کی ماں واپس نہیں آسکتی لیکن میں چاہتا ہوں کہ آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔‘
غلام مرتضیٰ نے کہا کہ ’پنجاب حکومت نے اب تک جو ردِعمل ظاہر کیا ہے وہ اس سے مطمئن ہیں اور پُرامید ہیں کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ رُونما نہیں ہوگا۔‘ 
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سعدیہ کے شوہر پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا جبکہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا۔
لاہور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ایس پی سٹی اور دیگر متعلقہ افسروں کے کردار کا تعین کرنے کے لیے اعلٰی سطح کی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔‘
اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز نے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ (آئی اے بی) کو آزادانہ انکوائری کے لیے باضابطہ خط بھی لکھ دیا ہے۔

سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے الزام لگایا ہے کہ ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس نے اُن پر تشدد کیا (فوٹو: سکرین گریب)

لاہور پولیس کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس انکوائری میں یہ جانچ کی جائے گی کہ خاتون کے شوہر اور اس کے رشتہ دار کو کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا؟ 
’ریسکیو کال پر پولیس نے گرفتاری کیوں کی اور ریسکیو آپریشن کے دوران پولیس ایکشن کی کیا وجوہات تھیں؟ وزیراعلٰی پنجاب کی ہدایت کے مطابق انکوائری جلد مکمل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
قبل ازیں انتظامی سطح پر بھی کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔جمعرات کو مریم نواز کی جانب سے واقعے پر ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں انہوں نے متعلقہ افسروں کی سرزنش کی۔ 
پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جب کہ واسا کے افسر عثمان بابر کو نہ صرف ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے بلکہ مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پروجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو گرفتار کر کے تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اس واقعے کو ’قتل کے مترادف غفلت‘ قرار دیتے ہوئے کنٹریکٹر کو متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے مالی امداد دینے اور غلام مرتضیٰ کو روزگار کے لیے ٹیکسی فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ 
لاہور پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تمام ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سعدیہ کے والد ساجد حسین کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے مجھ سے سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوائے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومت کی جانب سے بھاٹی گیٹ واقعے پر وزیراعلٰی کی جانب سے احکامات اور کارروائی کو تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ حکومتی ردِعمل میں اب تک بیوروکریسی کے ’براؤن صاحبان‘ محفوظ رہے ہیں۔
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے واقعات کے بعد آنے والی انکوائری رپورٹس میں عموماً اعلٰی سول افسروں کو ذمہ داری سے بچا لیا جاتا ہے۔‘
’اگرچہ وزیراعلٰی کی صدارت میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر چیف سیکریٹری تک تمام افسر موجود تھے لیکن تاحا؛ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر لاہور یا ڈی جی ایل ڈی اے کی عملی غفلت کیا تھی۔‘
ماجد نظامی کے مطابق ’وزیراعلٰی کے خطاب میں کہا گیا کہ اصولاً ان افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے لیکن عملی طور پر کارروائی نچلے درجے کے سکیورٹی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز تک محدود رہی۔‘
سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کا معاملہ اور پولیس کا موقف
بھاٹی گیٹ واقعے میں مرنے والی خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے کے  معاملے پر ترجمان لاہور پولیس آپریشنز ونگ نے وضاحت جاری کی ہے۔

ماہرین کے مطابق ’وزیراعلٰی کی کارروائی نچلے درجے کے اہلکاروں اور کنٹریکٹرز تک ہی محدود رہی‘ (فائل فوٹو: پنجاب اسمبلی)

ترجمان کا کہنا ہے کہ ساجد حسین کا انگوٹھا کسی کو ریلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ درخواست مقدمہ میں تصحیح کے لیے لگوایا گیا۔
’والد کی درخواست مقدمہ میں سیفٹی آفیسر محمد دانیال کا ذکر تھا جبکہ گرفتار کرنے پر پتا چلا کہ سیفٹی آفیسر کا نام محمد حنزلہ تھا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’درخواست مقدمہ کی دُرستی کے لیے انگوٹھا لگوا کر درخواست دوبارہ دی گئی اور انگوٹھا لگاتے وقت سارا متاثرہ خاندان خاتون کی نعش کے ساتھ ڈیڈ ہاؤس میں موجود تھا۔‘
ترجمان کے مطابق انویسٹی گیشن وِنگ کی درخواست پر انگوٹھا لگوا کر تصحیح کی کارروائی کی گئی، ڈیڈ ہاؤس سے نکلتے ہوئے وقت کی قِلت کے باعث انگوٹھے لگوا کر کارروائی کی گئی۔‘
’دُرست کوائف کے ساتھ نئی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کیا جا چکا ہے،
واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، ایس ایچ او کو بھی معطل کر کے اعلٰی سطح کی انکوائری کی جاری ہے۔‘

 

شیئر: