Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماسکو میں دو صدیوں کی سب سے زیادہ برفباری، ’دوسری منزل تک برف کے ڈھیر‘

ماہرین کے مطابق 29 جنوری تک تقریباً 92 ملی میٹر برفباری ریکارڈ کی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
روس کے دارالحکومت ماسکو میں رواں مہینے گذشتہ دو صدیوں سے زیادہ عرصے میں ہونے والی سب سے زیادہ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ جنوری کا مہینہ ماسکو میں سرد اور غیرمعمولی طور پر برفیلہ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’29 جنوری تک، ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی موسمیاتی مشاہداتی مرکز نے تقریباً 92 ملی میٹر برفباری ریکارڈ کی، جو گزشتہ 203 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔  
اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا گیا کہ شہر کے تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ رہائشی مرکزی ضلع کی سڑکوں پر برف کے بھاری بھرکم ڈھیر میں سے گزرنے کے لیے راستہ بنانے میں دشواری کا سامنا کر رہے تھے۔
اے ایف پی کے رپورٹرز نے دیکھا کہ ماسکو کے علاقے میں مسافر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔
جمعرات کو دارالحکومت کے بعض علاقوں میں زمین پر برف کے ڈھیر 60 سینٹی میٹر (24 انچ) تک بلند ہو گئے۔
برف زیادہ تر ہوا پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے جمع شدہ برف کی سطح بارش کی سائنسی پیمائش سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو صرف گرنے والے پانی کی مقدار کو ماپتی ہے۔
موسمیاتی مرکز کے مطابق، اس ریکارڈ برفباری کی وجہ ماسکو کے علاقے میں گہرے اور وسیع طوفانوں کے ساتھ شدید ہوا کی لہر کا گزرنا تھا۔
ماسکو کے 35 سالہ بارٹینڈر پاول نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میرے بچپن میں بہت زیادہ برف پڑتی تھی، لیکن اب تقریباً کوئی برف نہیں ہوتی، پہلے بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔‘
رواں مہینے کے آغاز میں، روس کے دور دراز مشرقی علاقے کامچٹکا میں ایک شدید برفانی طوفان کے باعث ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا، جس نے اس کے اہم شہر کو جزوی طور پر مفلوج کر دیا۔
آن لائن وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برف کے ڈھیر اتنے بڑے تھے کہ وہ عمارتوں کی دوسری منزل تک پہنچ گئے، اور لوگ سڑکوں میں راستہ بنانے کے لیے برف کھود رہے تھے، جبکہ گاڑیاں دونوں طرف برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔

 

شیئر: