ایک پرواز، کئی کہانیاں: کیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فاصلے ختم ہو رہے ہیں؟
جمعہ 30 جنوری 2026 15:15
زین علی -اردو نیوز، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انٹرنیشنل ارائیول لاؤنج میں معمول کے مطابق مسافروں کی آمد جاری تھی، مگر استقبالیہ دروازے کے قریب کھڑی ایک خاتون باقی سب سے مختلف دکھائی دے رہی تھیں۔ ریحانہ جبین بار بار گھڑی دیکھتیں، سکرین پر چلتی فلائٹ انفارمیشنز پر نظر ڈالتیں اور پھر دروازے کی طرف دیکھنے لگتیں۔
ان کی آنکھوں میں بے چینی بھی تھی اور نمی بھی کیونکہ وہ کسی عام مسافر کو ریسیو کرنے نہیں آئی تھیں، بلکہ برسوں پر محیط ایک انتظار اپنے اختتام کے قریب تھا۔
چند لمحوں بعد وہ شخص اس دروازے سے باہر آنے والا تھا جسے وہ بچپن میں ماموں کہہ کر بلایا کرتی تھیں، اس ملاقات کو وقت، سیاست اور جغرافیے نے دہائیوں تک مؤخر کر دیا تھا۔
ریحانہ جبین کے ماموں بنگلا دیش میں مقیم ہیں۔ وہ خاندان جو کبھی ایک ہی سرزمین، ایک ہی شناخت اور ایک ہی تاریخ کا حصہ تھا، وقت کے ساتھ دو ملکوں میں بٹ گیا۔
ریحانہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرقی پاکستان کے قیام کے دنوں کی باتیں انہوں نے اپنے والدین سے سنی ہیں، جب بحری جہاز لوگوں کو ڈھاکہ سے کراچی اور چٹاگانگ تک لے جایا کرتے تھے، تب پاسپورٹ یا ویزے کا تصور بھی نہیں تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب تو ملاقات کے لیے بھی فلائٹ ڈھونڈنی پڑتی ہے، اور وہ بھی برسوں بعد۔‘
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ریحانہ جبین کا یہ انتظار اس وقت ختم ہوا جب بنگلا دیش کی قومی ائیرلائن بیمان بنگلا دیش ائیرلائنز کی پرواز ڈھاکہ سے کراچی پہنچی۔
یہ پرواز محض مسافروں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لانے والی فلائٹ نہیں تھی، بلکہ 14 برس بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان فضائی رابطہ بحال ہوا تھا۔ جیسے ہی ارائیول گیٹ کھلا، ریحانہ کی نظریں بھیڑ میں کسی ایک چہرے کو تلاش کرنے لگیں، اور پھر چند ہی منٹوں کے بعد وہ لمحہ آ گیا جب ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کراچی ایئرپورٹ پر اس دن ایسے کئی مناظر دیکھنے کو ملے۔ پاکستان میں مقیم بنگالی کمیونٹی کے افراد، پاکستانی خاندان، اور وہ لوگ جن کے رشتے دار سرحد کے آر پار پھیلے ہوئے ہیں، سب اس پرواز کے منتظر تھے۔ کہیں خاموش مسکراہٹیں تھیں، کہیں آنسو، اور کہیں وہ سوال جو بارہا سنائی دیا کہ اتنے برس کیوں لگ گئے؟
اسی پرواز سے بنگلا دیش سے پاکستان آنے والے مسافروں میں معین احمد بھی شامل تھے۔ وہ کراچی پہنچ کر کچھ دیر رُکے اور اردگرد کے مناظر کو غور سے دیکھتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’براہِ راست پاکستان آنا ایک نیا تجربہ ضرور ہے۔ آٹھ، نو گھنٹے کا سفر، طویل انتظار اور مہنگا ٹکٹ۔ اس کے مقابلے میں تین گھنٹے کی یہ فلائٹ ایک نعمت لگتی ہے۔‘
معین احمد کے لیے یہ سفر سہولت سے زیادہ ایک علامت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کو اکثر سیاست کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، مگر اصل کہانی عام لوگوں کی ہے، جن کے لیے یہ پروازیں زندگی کو آسان بناتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے دوست، ان کے کاروباری ساتھی، اور ان کے کچھ رشتہ دار پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔ براہِ راست فلائٹ نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ محدود ہو گیا تھا۔‘
اسی فلائٹ سے آنے والے ایک اور مسافر محمد شاہد ہیں، جن کے خاندان کا تعلق کراچی اور ڈھاکہ دونوں شہروں سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے بزرگ آج بھی ڈھاکہ اور کراچی کے قصے ایک ساتھ سناتے ہیں۔‘
محمد شاہد کے مطابق ’یہ کبھی ایک ہی ملک تھا، ایک ہی ماضی تھا، اب ملک تو دونوں الگ ہیں، مگر رشتے مکمل طور پر الگ نہیں ہوئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ براہ راست پرواز کی بحالی نے ان جیسے لوگوں کے لیے دوبارہ ملاقات کے دروازے کھول دیے ہیں۔
بنگلا دیش کی قومی ائیرلائن کی اس پہلی پرواز کی کراچی آمد کو یادگار بنانے کے لیے ایئرپورٹ پر خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ طیارے کو ہوابازی کی روایت کے مطابق واٹر سلیوٹ پیش کیا گیا، جو عام طور پر کسی تاریخی یا خصوصی پرواز کے لیے دیا جاتا ہے۔ ایک مختصر تقریب بھی منعقد ہوئی، جس میں گورنر سندھ، بنگلا دیش کے ہائی کمشنر اور ایئرپورٹ حکام شریک ہوئے۔ تقاریر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ پرواز دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش ہے۔
سرکاری بیانات اپنی جگہ، مگر ایئرپورٹ کے اندر نظر آنے والی کہانیاں کہیں زیادہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ وہ بزرگ جو ویل چیئر پر بیٹھے خاموشی سے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے تھے، وہ نوجوان جو پہلی بار پاکستان آیا تھا، اور وہ خاندان جو برسوں بعد ایک ساتھ تصویر بنوا رہا تھا، یہ سب اس پرواز کی اصل اہمیت کو بیان کر رہے تھے۔
ہوابازی کے ماہرین کے مطابق ڈھاکہ اور کراچی کے درمیان براہ راست پرواز کا دورانیہ تقریبا تین گھنٹے ہے۔ اس سے پہلے مسافروں کو دبئی یا کسی اور خلیجی شہر کے ذریعے سفر کرنا پڑتا تھا، جس سے نہ صرف وقت بڑھ جاتا تھا بلکہ اخراجات بھی دوگنے ہو جاتے تھے۔ براہِ راست پرواز سے خاص طور پر وہ لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو محدود آمدن کے باوجود خاندانی یا ذاتی مجبوریوں کے تحت سفر کرتے ہیں۔
تجارتی حلقے بھی اس پیش رفت کو مثبت نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ٹیکسٹائل، ادویات اور زرعی مصنوعات کی تجارت پہلے ہی موجود ہے، مگر کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ براہ راست فضائی رابطہ ملاقاتوں اور معاہدوں کو آسان بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ اور مریضوں کے لیے بھی سفر نسبتاً سہل ہو جائے گا۔
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق براہ راست پروازوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک محتاط مگر مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ماضی کی تاریخ پیچیدہ رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی خواہش واضح نظر آتی ہے۔ ایسے میں فضائی رابطہ ایک عملی اقدام ہے جو سیاسی بیانات سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ کے ارائیول لاؤنج میں ریحانہ جبین اپنے ماموں کے ساتھ بیٹھ کر خاموشی سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ملاقات شاید چند دنوں کی ہو، مگر اس کی اہمیت برسوں پر محیط ہے۔ ہم ایک دوسرے سے مل تو رہے ہیں، مگر اصل بات یہ ہے کہ اب ملنا آسان ہو گیا ہے۔‘
