Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی ’سستے ڈالر‘ سے خطرناک دل لگی کے پیچھے کیا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی نومبر 2024 میں انتخابی کامیابی سے لے کر حلف برداری تک ڈالر تقریباً چھ فیصد مضبوط ہوا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
رواں ہفتے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈالر ’بہت بہترین چل رہا ہے‘ تو امریکی ڈالر یورو کے مقابلے میں ساڑھے چار سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اگلے ہی دن مضبوط ڈالر کی حمایت کی، مگر مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے صدر ٹرمپ کے بیان کو اس بات کی تازہ علامت قرار دیا کہ صدر کمزور ڈالر کو تجارتی خسارہ کم کرنے اور امریکی صنعت کو فروغ دینے کے اپنے اہداف سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
کمزور ڈالر کے ملے جلے اثرات ہوتے ہیں: ایک طرف یہ امریکی برآمدات کو زیادہ مسابقتی بناتا ہے، تو دوسری طرف درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھا کر مالی دباؤ کا شکار صارفین کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔
امریکی ڈالر کتنا کمزور ہے؟
ڈالر انڈیکس کے مطابق، جو یورو، ین اور چار دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر ناپتا ہے، ٹرمپ کے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی کرنسی تقریباً 12 فیصد گر چکی ہے۔
تاہم یہ کمی اس کے بعد آئی جب نومبر 2024 میں انتخابی کامیابی سے لے کر حلف برداری تک ڈالر تقریباً چھ فیصد مضبوط ہوا تھا۔
اس کے علاوہ، تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکی ڈالر غیر معمولی حد تک کمزور نہیں ہے۔ منگل کی شب یورو پہلی بار 2021 کے بعد 1.20 ڈالر سے اوپر گیا، مگر یہ اب بھی جولائی 2008 کی 1.60 ڈالر سے زائد کی تاریخی بلند ترین سطح سے کہیں کم ہے۔

ٹرمپ کے دور میں ڈالر کیوں گرا؟

منگل کو ڈالر میں نمایاں کمی اس وقت آئی جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں ڈالر بہت زیادہ گر چکا ہے۔

صدر ٹرمپ کے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی کرنسی تقریباً 12 فیصد گر چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

آئیووا میں ٹرمپ نے جواب دیا ’نہیں، میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے۔ دیکھیں ہم کتنا کاروبار کر رہے ہیں۔‘
اگرچہ اس بیان کا اثر ضرور پڑا، لیکن آئی جی این سے وابستہ زرمبادلہ ماہر فرانسسکو پیسولے کے مطابق، ’ڈالر میں سب سے بڑی حرکت پہلے ہی ہو چکی تھی۔‘
پیسولے حالیہ کمزوری کو ’سیل امریکہ ‘ کی سوچ کی واپسی سے جوڑتے ہیں، جو یورپ پر گرین لینڈ کے معاملے پر نئے ٹیرف لگانے کی ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئی۔
اپریل میں ’لبریشن ڈے‘ کے جارحانہ ٹیرف اعلان کی طرح، ٹرمپ نے آخرکار گرین لینڈ سے متعلق محصولات سے بھی پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن اس واقعے نے 79 سالہ صدر کے دور میں امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال کو نمایاں کر دیا۔
ایک اور عنصر فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کی متوقع تقرری ہے، جو جیروم پاول کی جگہ لے گا۔ ٹرمپ پاول پر بارہا تنقید کر چکے ہیں کہ وہ شرحِ سود میں مناسب حد تک کمی نہیں کر رہے۔
اگر پاول کی جگہ ایسا چیئرمین آیا جو نمایاں طور پر کم شرحِ سود کا حامی ہو، تو اس سے ڈالر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

کمزور ڈالر کا امریکی معیشت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

سستا ڈالر امریکی برآمدات کو بیرونی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنا دیتا ہے۔ یہ عمل امریکی صنعت کو فروغ دینے اور تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ دونوں ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات ہیں۔

بٹن کا کہنا ہے ’گرتے ہوئے ڈالر کا خطرہ یہ ہے کہ مہنگائی دوبارہ تیز ہو سکتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دیگر فوائد میں وہ امریکی کمپنیاں شامل ہیں جو بیرونِ ملک منافع کماتی ہیں، کیونکہ ان کے مالی نتائج بہتر ہو جاتے ہیں، اور ساتھ ہی امریکہ میں غیر ملکی سیاحت کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔
نیشن وائیڈ کے ماہرِ معاشیات اورین کلاچکن کے مطابق، اگرچہ دونوں سیاسی جماعتوں کے صدور مضبوط ڈالر کی بات کرتے ہیں، ’لیکن اندرونی طور پر، کبھی وہ کھل کر کہتے ہیں، کبھی نہیں، وہ اپنی معاشی پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے کمزور کرنسی کے خواہاں ہوتے ہیں۔‘
نومبر 2024 کے ایک مقالے میں، اسٹیفن میران، جو ٹرمپ کے اقتصادی مشیروں کی کونسل کے چیئرمین اور فیڈرل ریزرو بورڈ کے رکن ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ڈالر کی مستقل حد سے زیادہ قدر‘ کو درست کرنا عالمی تجارت کی ازسرِ نو تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
تاہم، سستے ڈالر کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس سے امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ فاریکس لائیو کے ایڈم بٹن کے مطابق امریکہ ’آگ سے کھیل رہا ہے۔‘
بٹن کا کہنا ہے ’گرتے ہوئے ڈالر کا خطرہ یہ ہے کہ مہنگائی دوبارہ تیز ہو سکتی ہے۔‘ ان کے مطابق سرمایہ کار کمزور ڈالر کو اس بات کی علامت سمجھ سکتے ہیں کہ دیگر امریکی اثاثوں سے بھی دور رہا جائے۔
بٹن نے کہا کہ ’جب دنیا بھر سے کھربوں ڈالر امریکی بانڈ مارکیٹ میں لگائے جاتے ہیں، تو اس سے امریکہ میں قرض لینے کی شرح کم رہتی ہے۔‘

شیئر: