رواں ہفتے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈالر ’بہت بہترین چل رہا ہے‘ تو امریکی ڈالر یورو کے مقابلے میں ساڑھے چار سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اگلے ہی دن مضبوط ڈالر کی حمایت کی، مگر مارکیٹ کے تجزیہ کاروں نے صدر ٹرمپ کے بیان کو اس بات کی تازہ علامت قرار دیا کہ صدر کمزور ڈالر کو تجارتی خسارہ کم کرنے اور امریکی صنعت کو فروغ دینے کے اپنے اہداف سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں
کمزور ڈالر کے ملے جلے اثرات ہوتے ہیں: ایک طرف یہ امریکی برآمدات کو زیادہ مسابقتی بناتا ہے، تو دوسری طرف درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھا کر مالی دباؤ کا شکار صارفین کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔
امریکی ڈالر کتنا کمزور ہے؟
ڈالر انڈیکس کے مطابق، جو یورو، ین اور چار دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر ناپتا ہے، ٹرمپ کے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی کرنسی تقریباً 12 فیصد گر چکی ہے۔
تاہم یہ کمی اس کے بعد آئی جب نومبر 2024 میں انتخابی کامیابی سے لے کر حلف برداری تک ڈالر تقریباً چھ فیصد مضبوط ہوا تھا۔
اس کے علاوہ، تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکی ڈالر غیر معمولی حد تک کمزور نہیں ہے۔ منگل کی شب یورو پہلی بار 2021 کے بعد 1.20 ڈالر سے اوپر گیا، مگر یہ اب بھی جولائی 2008 کی 1.60 ڈالر سے زائد کی تاریخی بلند ترین سطح سے کہیں کم ہے۔
ٹرمپ کے دور میں ڈالر کیوں گرا؟
منگل کو ڈالر میں نمایاں کمی اس وقت آئی جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں ڈالر بہت زیادہ گر چکا ہے۔

آئیووا میں ٹرمپ نے جواب دیا ’نہیں، میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے۔ دیکھیں ہم کتنا کاروبار کر رہے ہیں۔‘
اگرچہ اس بیان کا اثر ضرور پڑا، لیکن آئی جی این سے وابستہ زرمبادلہ ماہر فرانسسکو پیسولے کے مطابق، ’ڈالر میں سب سے بڑی حرکت پہلے ہی ہو چکی تھی۔‘
پیسولے حالیہ کمزوری کو ’سیل امریکہ ‘ کی سوچ کی واپسی سے جوڑتے ہیں، جو یورپ پر گرین لینڈ کے معاملے پر نئے ٹیرف لگانے کی ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئی۔
اپریل میں ’لبریشن ڈے‘ کے جارحانہ ٹیرف اعلان کی طرح، ٹرمپ نے آخرکار گرین لینڈ سے متعلق محصولات سے بھی پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن اس واقعے نے 79 سالہ صدر کے دور میں امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال کو نمایاں کر دیا۔
ایک اور عنصر فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کی متوقع تقرری ہے، جو جیروم پاول کی جگہ لے گا۔ ٹرمپ پاول پر بارہا تنقید کر چکے ہیں کہ وہ شرحِ سود میں مناسب حد تک کمی نہیں کر رہے۔
اگر پاول کی جگہ ایسا چیئرمین آیا جو نمایاں طور پر کم شرحِ سود کا حامی ہو، تو اس سے ڈالر پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
کمزور ڈالر کا امریکی معیشت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
سستا ڈالر امریکی برآمدات کو بیرونی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنا دیتا ہے۔ یہ عمل امریکی صنعت کو فروغ دینے اور تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ دونوں ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات ہیں۔













