اُمید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، صدر ٹرمپ
اُمید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑے گی، صدر ٹرمپ
جمعہ 30 جنوری 2026 8:36
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے جبکہ ایران نے کسی بھی حملے کے جواب میں امریکی اڈّوں اور طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے بات چیت کر رہے ہیں انہوں نے فوجی کارروائی سے بچنے کا امکان کُھلا رکھا ہے۔
اس سے قبل انہوں نے خبردار کیا تھا کہ تہران کے لیے وقت ’ختم ہو رہا ہے‘ اور امریکہ خطے میں ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ بات چیت کریں گے؟ تو صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں بات کر چکا ہوں اور میں اس کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔‘
امریکی صدر نے اپنی اہلیہ میلانیا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمارا ایک گروپ ایران نامی جگہ کی طرف جا رہا ہے اور امید ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔‘
برسلز اور واشنگٹن نے رواں ہفتے اپنے بیانات میں سختی بڑھائی ہے اور ایران نے واضح سخت دھمکیاں دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جوہری مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ ’ایسے بحران سے بچا جا سکے جس کے خطے میں تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
امریکہ نے گذشتہ برس جون میں ایران پر حملے میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایک ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ تہران کا جواب کسی بھی امریکی کارروائی پر محدود نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ کن اور فوری ہوگا۔ جیسا کہ گذشتہ سال جون میں تھا جب امریکی طیارے اور میزائل مختصر طور پر ایران کے خلاف اسرائیل کی مختصر فضائی جنگ میں شامل ہوئے تھے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں ’سنجیدہ کمزوریاں‘ ہیں اور خلیجی خطے میں متعدد امریکی اڈے ’ہمارے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اگر امریکیوں نے ایسا کوئی غلط اندازہ لگایا، تو یقیناً حالات کا رخ ویسا نہیں ہو گا، جیسا ٹرمپ تصور کرتے ہیں کہ ایک تیز رفتار آپریشن کیا اور پھر دو گھنٹے بعد ٹویٹ کر دی کہ آپریشن ختم ہو گیا ہے۔‘
خلیج میں، جہاں مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے خدشات ’بہت واضح‘ ہیں۔
عہدے دار نے مزید کہا: ’یہ خطے کو افراتفری میں دھکیل دے گا، اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ امریکہ میں بھی معیشت کو نقصان پہنچے گا اور تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔‘