’گُگلی ماسٹر‘ عبدالقادر لاہور میں سپرد خاک

ون ڈے میں 44 رنز کے عوض پانچ وکٹیں عبدالقادر کی بہترین بولنگ تھی
پاکستان کے سابق کرکٹر اور گگلی ماسٹر عبدالقادر کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ دربار میاں میر لاہور میں ادا کی گئی۔ سابق لیگ سپنر کا جمعے کی رات کو لاہور میں انتقال ہو گیا تھا۔
ان کی نماز جنازہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق، سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق، کپتان سرفراز احمد، بابر احمد، سابق لیگ سپنر مشتاق احمد، باسط علی اور بابر اعظم سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
جمعے کو اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر کے صاحبزادے سلمان قادر کا کہنا تھا کہ دل کا دورہ پڑنے پر ان کو لاہور کے سروسز ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا انتقال ہو گیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان عبدالقادر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک عظیم کرکٹر سے محروم ہو گیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی کامران اکمل نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا۔ 
پاکستان کے معروف جنون بینڈ کے سنگر سلمان احمد نے عبدالقادر اور دیگر کھلاڑی کی گروپ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک دوست اور لیجنڈری کرکٹر سے محروم ہو گئے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی عبدالقادر کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔
عبدالقادر نے پاکستان کی جانب سے 67 ٹیسٹ میچز کھیل کر 236 وکٹیں حاصل کیں، 56 رنز کے عوض 9 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ تھی۔ انہوں نے 104 بین الاقوامی ایک روزہ میچز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔
ون ڈے میں 44 رنز کے عوض پانچ وکٹیں ان کی بہترین بولنگ تھی جو انہوں نے 1983 کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف کی۔ 
عبدالقادر نے پاکستان کی جانب سے 14 سے 19 دسمبر 1977 تک اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف لاہور میں کھیلا۔ انہوں نے آخری ٹیسٹ میچ لاہور میں ہی 6 سے 11 دسمبر تک ویسٹ انڈیز کے خلاف 1990 میں کھیلا۔ انہوں نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ 11 جون 1983 کو نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم، انگلینڈ میں کھیلا، جبکہ 2 نومبر 1993 کو انہوں نے شارجہ کے تاریخی میدان میں سری لنکا کے خلاف اپنا آخری ایک روزہ میچ کھیلا۔ 
انہوں نے پاکستان کی جانب سے 1983 اور 1987 کے ورلڈ کپ کھیلے۔ واضح رہے کہ 1987 کے ورلڈ کپ میں عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔

عبدالقادر نے 104 ون ڈے میچز میں 132 وکٹیں حاصل کیں

عبدالقادر نے 1975 سے 1995 تک پنجاب، لاہور اور حبیب بینک کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔
ان کی جادوئی لیگ سپن بولنگ کے دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی معترف تھے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان گراہم گوچ کا تو یہ کہنا تھا کہ عبدالقادر شین وارن سے بہتر لیگ سپنر ہیں۔
یاد رہے کہ 1989 میں قذافی سٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل ایک وارم اپ میچ کھیلا گیا۔ اس میچ میں انڈیا کی جانب سے سچن ٹنڈولکر نے بھی حصہ لیا اور انہوں نے عبدالقادر کو لگاتار چار چھکے لگائے۔ اس وقت ٹنڈولکر کی عمر 16 برس تھی۔
ٹنڈولکر کی بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے اسی روز عبدالقادر نے پیشین گوئی کی کہ یہ لڑکا مستقبل میں دنیا کا عظیم بلے باز بنے گا اور ان کی یہ پیشین گوئی وقت نے درست ثابت کی۔
انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں تاہم بعد ازاں بورڈ حکام کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ 
ان کے ایک صاحبزادے عثمان قادر پاکستان کی جانب سے انڈر 19 کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
گگلی ماسٹر کے انتقال پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک عظیم سپورٹس مین سے محروم ہو گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم، معین خان، راشد لطیف، سرفراز احمد اور سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر بریٹ لی نے بھی عبدالقادر کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل عبدالقادر کے داماد ہیں۔

شیئر: