جھگی مکینوں میں علم کی روشنی

زاہد، جو آج کچی بستی کے ان بچوں کو پڑھاتے ہیں، کل تک خود انہی بچوں کی طرح اس سکول میں ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھتے تھے۔ نرسری سے دسویں جماعت تک سکول جا کر تعلیم حاصل کرنا کچی بستی میں رہنے والے بچوں کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔ زاہد کا تعلق بھی راولپنڈی شہر کی گلستان کالونی کی ایک جھگی سے ہے۔
زاہد اپنے ہی سکول میں ننھے بچوں کو ریاضی اور انگریزی کے مضامین بطور اسسٹنٹ ٹیچر پڑھاتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے اور خاندان کے لوگوں کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔ ایسی مثال جسے دیکھ کر آس پاس رہنے والے کچی آبادی کے دیگر مکین بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ 
زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ ’ہماری کچی بستی میں لوگوں کو شعور نہیں ہے کہ پڑھائی کیا چیز ہے، اب میں لوگوں کو یہی بتانا چاہتا ہوں کہ علم کی کیا اہمیت ہے۔‘
زاہد کو دیکھ کر اب اس کے اپنے خاندان سے دو لڑکیاں اور محلے کے کئی بچے سکول جانے لگے ہیں۔ 

زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ ’ہماری کچی بستی میں لوگوں کو شعور نہیں ہے کہ پڑھائی کیا چیز ہے‘۔

گلستان کالونی کی کچی آبادی سے صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت عمارت میں بستی کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔
'دی قلم' کے نام سے یہ سکول گذشتہ دس برسوں سے کچی آبادی کے مکینوں میں علم کی شمع روشن کر رہا ہے۔ بچوں کو صرف مفت تعلیم، کتابیں اور یونیفارم ہی نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے طور طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔
اپنے سکول کے بارے میں زاہد کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ایسا سکول ہے جو میرے جیسے غریب بچوں کو پڑھاتا ہے، ان کو روٹی کپڑا، سب کچھ مہیا کرتا ہے۔‘
تقریباً 10 برس قبل ایک مقامی ٹیچر ملیحہ سکندر نے اپنے خاندان کے دیگر چند افراد کی مدد سے ان بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مزید لوگ بھی ان کے کاروان میں شامل ہوتے گئے اور 'دی قلم' کو آج پورے علاقے میں مقامی لوگ نہ صرف جانتے بلکہ سراہتے بھی ہیں۔ 
'دی قلم سکول' کی پرنسپل ملحیہ کو کچی بستی کے سب لوگ ان کے کام کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ خود بھی بستی کے ہر طالب علم کے والدین اور گھر کے ماحول کو اچھی طرح سے جانتی ہیں۔

یہ سکول گذشتہ دس برسوں سے کچی آبادی کے مکینوں میں علم کی شمع روشن کر رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کئی بچوں پر بہت محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ گھر میں کچھ ماں باپ ایسے بھی ہوتے ہیں جو گالیاں دیتے ہیں، مارتے ہیں تو بچے اس سے نفسیاتی طور پر بھی کافی متاثر ہوتے ہیں۔‘
'دی قلم سکول' کے ایسے ہی ایک بچے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ بہت زیادہ تشدد کی طرف مائل تھا جس کی وجہ اس کے گھر کا ماحول تھا جہاں اکثر اس کا باپ اسے بجلی کی تار سے کرنٹ لگایا کرتا تھا۔ ’ہم نے اس بچے پر بہت محنت کی اور اسے پڑھایا اور اب اس نے میٹرک بھی پاس کر لیا ہے۔‘
ملیحہ اور ان کے ساتھی اساتذہ  ایسے طلبہ کی کونسلنگ بھی کرتے ہیں۔’ان بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح کی صورت حال کا کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔‘
ہیومن رائٹس واچ کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  پانچ سال سے 16 سال کی عمر کے تقریباً سوا دو کروڑ بچے آج بھی سکول نہیں جاتے۔ ان میں سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ پرائمری کی عمر تک کی 32 فیصد لڑکیاں جبکہ 21 فیصد لڑکے سکول سے باہر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 13 فیصد لڑکیاں نویں جماعت تک پہنچ پاتی ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق سکول سے باہر بچوں کو واپس سکول میں لانے کے لیے کم سے کم مجموعی قومی پیداوار کا چار فیصد تعلیم پر خرچ کرنا ہو گا۔ 

'دی قلم سکول' کی  پرنسپل ملحیہ کو کچی بستی کے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

'دی قلم سکول' کی ایک اور طالبہ نوشین حیدر کا تعلق گلستان کالونی کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے اور اسے گھر والوں نے ساتویں جماعت کے بعد سکول سے اٹھا لیا تھا، لیکن نوشین مزید پڑھنا چاہتی تھی۔اسے کسی نے دی قلم سکول کے بارے میں بتایا تو اس نے اپنے گھر والوں کو مزید تعلیم حاصل کر نے پر قائل کر لیا۔ 
’میرا بھائی پڑھ رہا تھا لیکن میں نہیں پڑھ رہی تھی، میرے گھر والوں نے میرا سکول چھڑوا دیا تھا۔ اگر 'دی قلم' سکول نہ ہوتا تو میری تعلیم صرف ساتویں جماعت تک ہی ہوتی۔‘
آج نوشین میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد زاہد کی طرح بطور اسسٹنٹ ٹیچر 'دی قلم سکول' میں پڑھا رہی ہے اور پڑھانے کے ساتھ شام میں ایک کالج سے خود بھی پڑھ رہی ہے۔ 
زاہد بھی نوشین کی طرح کالج جانا چاہتا ہے مگر اچانک سے اس کی آنکھوں کی بینائی اس کا ساتھ چھوڑنے لگی ہے جس کی وجہ سے اسے جزوی دکھائی دیتا ہے۔ پھر بھی  اس کے حوصلے  بلند ہیں!

شیئر: