35 سال سے زائد عمر پر ملازمت سے محروم؟

عالمی ٹرینڈ بننے والے ہیش ٹیگ پر وزارت محنت حرکت میں آگئی
وزارت محنت و سماجی فروغ نے کہا ہے کہ 35 سال سے زائد عمر کے شہریوں پرنجی شعبے میں کام کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا میں اس حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بے بنیاد ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پیر کو ٹوئٹر صارفین نے ہیش ٹیگ بنایا جو دیکھتے ہی دیکھتے عالمی ٹرینڈ بن گیا۔ اس کا عنوان ”35 سال کی عمر کے شہریوں پر پابندی ختم کی جائے“ تھا۔
ٹوئٹر صارفین نے کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل شہریوں کو اس لئے ملازمت نہیں مل رہی کہ ان کی عمریں 35 سال سے تجاوز کر گئی ہیں۔ نجی شعبے میں جہاں کہیں وہ بائیو ڈیٹا بھیجتے ہیں تو انہیں معذرت کے ساتھ جواب ملتا ہے کہ خواہش مند کی عمر شرائط کے مطابق نہیں۔

 35 سال سے زائد عمر کے شہریوں پرنجی شعبے میں کام کرنے کی پابندی کی خبر غلط ہے، سعودی وزارت محنت

ٹوئٹرپر شہریوں نے مختلف تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بعض نجی ادارے 30 سال کی حد لگائے بیٹھے ہیں۔ ایک شہری نے سکرین شاٹ شیئر کرکے ثابت کیا کہ ایک نجی ادارے نے اسے جواب دیا ہے کہ ہمارے یہاں 29 سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کی بھرتی نہیں ہوتی۔
ایک شہری نے کہا کہ اگر کوئی شخص پڑھا لکھا ہے اور اسامی کی شرائط پر پورا طرح اترتا ہے اور اس کے پاس اسی شعبے کا تجربہ بھی ہے تو محض اس وجہ سے اسے ملازمت سے محروم کردینا کہ اس کی عمر 35 سال ہے، زیادتی کے سوا کچھ نہیں۔
متعدد شہریوں نے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے مختلف اداروں کے اشتہارات کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ نجی اداروں کی طرف سے خالی اسامیوں کے اشتہارات میں 30 سال کی عمر کی شرط رکھی گئی ہے۔

عالمی ٹرینڈ بننے والے ہیش ٹیگ پر وزارت محنت و سماجی فروغ کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے بھی حرکت میں آگئے۔سعودی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نجی و سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی ادارے کو قانونی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملازمین کی عمر کی قید لگائے۔
انسانی حقوق نے کہا کہ سعودی لیبر قوانین میں ملازمت کی کم سے کم عمر واضح ہے۔ یہ اس لئے ہے تاکہ بچوں سے مشقت نہ لی جاسکے۔ اسی طرح ریٹائرمنٹ کی بھی عمر واضح ہے۔
انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مفلح القحطانی نے بتایا کہ اسامی کیلئے 30یا 35سال کی عمر کی شرط لگانا خواہ نجی شعبے کی طرف سے ہو یا سرکاری ادارے کی جانب سے، دونوں صورتوں میں یہ غیر قانونی ہے بلکہ لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری طرف وزارت سول سروس نے بھی اپنے طور پر عالمی ٹرینڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نے 35سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کی ملازمت پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جو ادارے ایسا کررہے ہیں وہ قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
وزارت سول سروس واضح کرتی ہے کہ اسامیوں کیلئے کم سے کم عمر 18سال سے زیادہ ہے جبکہ انتہائی عمر ریٹائرمنٹ کی ہے جو سب کے علم میں ہے۔
                             
 

شیئر: