امریکی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے دو افراد زخمی، مینیسوٹا میں سخت کشیدگی
امریکہ میں امیگریشن ایجنٹ کی جانب سے فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد وہ احتجاج شدید تر ہو رہا ہے جو ایک روز قبل منیاپولس میں ایسے ہی واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو پورٹ لینڈ میں ہونے والے واقعے میں ایک خاتون اور ایک مرد زخمی ہوئے۔
ایک روز قبل مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں ایسے ہی واقعے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھیں۔
واقعات کے بعد ڈیموکریٹک میئرز اور گورنرز نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فیڈرل افسران کی شہروں میں تعیناتی ختم کی جائے۔
ان اہلکاروں کو مختلف شہروں میں غیرقانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت داخلہ روکنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، جس کا وعدہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔
اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے غیرقانونی طور پر امریکہ میں داخلہ روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے، کچھ ممالک پر پابندی لگائی گئی جبکہ امریکہ کے سرحدی علاقوں میں امیگریشن کے خصوصی اہلکار بھی تعینات کیے گئے اور دونوں واقعات انہی سے متعلق ہیں۔
واقعات کے بعد عوام میں پائی جانے والی برہمی پر مقامی حکام پریشان دکھائی دے رہے ہیں اور ان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
پورٹ لینڈ پولیس کے سربراہ باب ڈے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم منیسوٹا میں ہونے والے واقعے کے باعث بھڑکنے والے جذبات سے باخبر ہیں مگر میں لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پرسکون رہیں، ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘
ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پورٹ لینڈ میں فائرنگ جمعرات کی دوپہر کو اس وقت ہوئی جب امریکی سرحد پر تعینات اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔
بیان کے مطابق اس میں وینزویلا کے گینگ سے تعلق رکھنے والے شخص نے گاڑی اہلکاروں پر چڑھانے کی کوشش کی۔
’اس کے جواب میں ایک ایجنٹ نے دفاع کے لیے فائرنگ کی، تاہم ڈرائیور اور ایک مسافر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایک کلینک کے قریب ہوا جس کے بعد پولیس وہاں پہنچی، تاہم پھر اسے اطلاع ملی کہ کلینک کے شمال مشرق میں تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خاتون اور مرد زخمی حالت میں موجود ہیں اور مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال روانہ کیا گیا تاہم ان کی حالت کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں۔
ایک روز قبل ایسے ہی ایک واقعے میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ایک ایجنٹ نے منیاپولس میں 37 سالہ خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مشتبہ افراد اور صدر ٹرمپ کے مخالف عناصر گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر چکے ہیں، حالانکہ ویڈیو شواہد بعض اوقات ان کے دعوؤں کی نفی بھی کرتے ہیں۔
پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن کا کہنا ہے کہ یہ شہر اب وفاقی ایجنٹوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار بن رہا ہے جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔
انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک تمام آپریشنز روک دیں۔
