Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عالیہ الطلحی قدیم قبائلی زیورات اور ملبوسات کی ’بحالی کے لیے کوشاں‘

مملکت کے مغربی قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی عالیہ الطلحی روایتی فیشن کے شعبے میں فنِ دستکاری کی ماہر ہیں۔
وہ قدیم عرب قبائل جن میں قریش، ثقیف، جھینہ، حرب اور سلیم وغیرہ شامل ہیں، کی خواتین میں رائج قدیم روایتی زیورات اور ملبوسات تیار کرتی ہیں۔
اخبار 24 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’دستکاری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ 9 برس کی عمر میں والدہ سے سلائی کڑھائی سیکھا کرتی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ پہلے روایتی طریقوں سے کپڑے تیار کیے جاتے تھے۔ ’نصف صدی کی بات ہے جب کپڑے زیادہ رنگ برنگے نہیں ہوا کرتے تھے۔ کپڑوں کو روایتی طریقے سے رنگا جاتا تھا، اس کے لیے کوئی ڈائی مشینیں نہیں ہوتی تھیں جبکہ کڑھائی کےلیے بھی مشینیں نہیں تھیں اور ہاتھوں سے ہی کڑھائی کی جاتی تھی۔‘
عالیہ الطلحی نے بتایا کہ ’اس وقت میرا فوکس مکہ مکرمہ، طائف اور اس کے مضافات میں ماضی میں رائج کپڑوں اور ان کے ڈیزائنوں کی بحالی ہے جس کے لیے اپنا وقت وقف کر رکھا ہے تاکہ ماضی کی ان یادوں کو زندہ کر سکوں جو میرے ذہن میں نقش ہیں۔‘
عالیہ الطلحی نے اپنی تیار کردہ دستکاری کی مصنوعات کے نمونے بھی دکھائے جن میں روایتی زیورات، کڑھائی کی اشیا اور پرانے انداز کے کپڑے شامل تھے۔ ان پر ریشم اور سیسہ کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا لباس ’المسدح‘ اور ’المروجل‘ کہلاتا تھا جو مختلف عرب قبائل میں رائج تھا۔‘

ماضی کی روایات کے بارے میں الطلحی کا کہنا تھا کہ ’عہد رفتہ میں قبائل میں یہ رواج تھا کہ غیرشادی شدہ لڑکیاں سرخ رنگ کے کپڑے پہنا کرتی تھیں جبکہ شادی شدہ خواتین نیلے رنگ کے ملبوسات استعمال کرتی تھیں۔‘
ان کے پاس ایک قدیم لباس آج تک موجود ہے جو ان کا خاندانی ہے۔ یہ قدیم لباس حرب اور سلیم قبائل کی خواتین کا برقعہ ہوتا تھا جسے ’التلول‘ (نقاب) کہا جاتا تھا۔ اس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے کشیدہ کاری کی جاتی تھی جبکہ سکے بھی آویزاں کیے جاتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ قدیم قبائلی روایتی شناخت کے احیا کے لیے کام کررہی ہیں تاکہ نئی نسل کا رشتہ ماضی سے مضبوط کر سکیں اور یہ فن ان میں منتقل کر سکیں۔

 

شیئر: