Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میں چلی گئی تو بچی کا کیا ہوگا‘ سعودی ٹیچر نے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کردی

الجوف ریجن کے گورنر نے سکول ٹیچر سے ملاقات کی اور شکریہ ادا کیا(فوٹو: ایس پی اے)
یہ کہانی ایک سعودی خاتون ٹیچر کی ہے جنہوں نے انسانی ہمدردی کی منفرد مثال قائم کردی۔
 اپنے علاقے کے سکول میں ٹرانسفر کے لیے برسوں انتظار کیا جب منظوری ہوئی تو نابینا طالبہ کی خاطر جانے سے انکار کردیا۔
الجوف ریجن کے گورنر نے سکول ٹیچر سے ملاقات کی اور انسانی ہمدردی کے اس اقدام پر شکریہ ادا کیا، اور انہیں اعزاز سے نوازا۔
الشرق کے مطابق سعودی خاتون ٹیچر نجلا محمد الدقدوقی گزشتہ نو برس سے اپنے شہر سے 150 کلو میٹر دور ایک سیکنڈری سکول میں ہیڈ مسٹریس ہیں۔ روزانہ 300 کلو میٹر کا سفر طے کر کے غروب آفتاب کے وقت گھر واپس آتی ہیں۔
خاتون ٹیچر نے وزارت تعلیم سے درخواست کی تھی کہ ان کا تبادلہ سکاکا شہر کے سکول میں کردیا جائے تاکہ یومیہ 300 کلومیٹر کا سفر کرنے سے بچا جاسکے۔

 نجلا محمد الدقدوقی نے اپنے شہر میں منتقلی کے لیے 9 برس تک انتظار کیا مگر جب ان کے ٹرانسفر کی منظوری آئی تو ایک نابینا طالبہ کی خاطر اپنے شہرمیں پوسٹنگ سے انکار کردیا۔
 ان کا کہنا تھا’ وہ کچھ عرصے سے ایک نابینا طالبہ مزن الشراری کو بریل سسٹم کے ذریعے انگلش اورعربی کی تعلیم دے رہی ہیں۔‘
جب انہوں نے دیکھا کہ سکول میں بریل سسٹم کی متبادل کوئی اور ٹیچر نہیں، اور میں چلی گئی تو بچی تعلیم مکمل نہیں کرسکے گی، یہ سوچ کر اپنے ٹرانسفر کی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا تاکہ بچی کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

سعودی ٹیچر نے مزید بتایا ‘جب طالبہ سکول میں داخل ہوئی تو انہوں نے بریل سسٹم کی ٹریننگ حاصل کی اور پھر تعلیم دینا شروع کی، طالبہ مجھ سے مانوس بھی ہوگئی ہے۔‘
 ٹرانسفر کے احکامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا’طالبہ کے آنے سے قبل میں اپنے شہر منتقلی کے احکامات کی منتظر تھی جب احکامات آئے تو مجھے خوشی نہیں بلکہ یہ فکر ہو گئی کہ معصوم طالبہ کا کیا ہوگا، میں چھی گئی تو اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکے گی، اسی لیے میں نے انکار کردیا۔‘

 

شیئر: