Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خلوہ‘ جو مساجد میں نمازیوں کو گرمی اور سردی سے محفوظ رکھتا تھا

ماضی میں جب گرمی سے بچانے کے لیے ایئر کنڈیشنز اور نمازیوں کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے ہیٹر کا رواج نہیں تھا تو اس دور میں مملکت کی مساجد میں ’تہ خانہ‘ بنانے کا رواج تھا جسے ’خلوہ‘ کہا جاتا تھا۔
مسجدوں میں زیر زمین ایسا کمرہ بنایا جاتا تھا جو گرمیوں میں ٹھنڈا اورسردیوں میں گرم ہوتا تھا۔
یہ کمرہ فجر اور عشا کی نمازوں کے لیے مخصوص تھا اور علاقے کے لوگ یہاں سردی سے بچنے کے لیے بھی بیٹھا کرتے تھے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مختلف علاقوں کی مساجد کے مرکزی ہال کے عین نیچے ’خلوہ‘ بنانے کے لیے علاقے میں دستیاب گارا اور مٹی کی اینٹیں استعمال کی جاتی تھیں۔
’خلوہ‘ میں جانے کےلیے سیڑھیاں مسجد کے اندر سے ہی بنائی جاتی تھیں۔ انتہائی سادہ مگر نمازیوں کو سرد و گرم سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی عمدہ موزوں ہوا کرتا تھا۔
ان کمروں کو اس انداز میں اس وقت کے ماہر معماروں نے تعمیر کیا تھا کہ گرمی اور سردی میں ان کے اثرات معکوس محسوس ہوتے۔

علاقے کے ایک معمر شہری صالح النفیسہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان خلوات میں وقت گزارا ہے۔ ’مساجد میں بنے یہ کمرے گرمیوں میں سرد جبکہ شدید سردیوں میں گرم ہوا کرتے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کمرے کسی قسم کی بناوٹ یا نقش و نگار سے خالی ہوتے تھے اور صرف سردی اور گرمی سے نمازیوں کو محفوظ رکھنے کے مقصد کے لیے بنائے گئے تھے۔ اسی لیے اس کی سجاوٹ پرتوجہ نہیں دی جاتی تھی، صرف ضرورت ہی اہم تھی۔‘
وقت کے ساتھ ساتھ جب ایئرکنڈیشنز اور ہیٹر کی موجودگی میں مساجد کو سرد اور گرم رکھنے کا بندوبست ممکن ہوا تو ’خلوہ‘ کی تعمیر کا رجحان ختم ہوتا گیا۔ 

 

شیئر: