روس، سعودی طلبہ کو سکالرشپ دے گا

روس ایٹمی پروگرام کیلئے سعودی نوجوانوں کو ٹریننگ دے رہا ہے
ایٹمی امور کے روسی ماہر اور ایٹمی توانائی کے روسی ادارے ’روساتوم‘ کے ایگزیکٹیو ڈپٹی چیئرمین کیریل کوماروف نے کہا ہے کہ روس نے سعودی عرب میں دو ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کیلئے ٹینڈر جمع کرائے ہیں۔ کئی بین الاقوامی کمپنیاں دوڑ میں شامل ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق روسی عہدیدار سے سوال کیا گیا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کی کیا حقیقت ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس سعودی عرب میں 80 ارب ڈالر کی لاگت سے 16 ایٹمی پلانٹ لگا رہا ہے۔
روسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دو ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کیلئے ٹینڈر اربوں ڈالر کے ہیں۔ اگر ٹھیکہ مل گیا تو اس سے سعودی عرب کو بڑا فائدہ ہوگا۔ ساز و سامان سعودی عرب کو ملے گا اور منصوبہ بھی مکمل ہوجائے گا۔
 ایٹمی پلانٹ پر جو سرمایہ بھی لگے گا اس سے سعودی معیشت کو کا فائدہ ہوگا۔ ایٹمی پلانٹ کی تعمیر سے متعلقہ صنعتوں میں 10 ہزار افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔
روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ سعودی ایٹمی پروگرام کیلئے سعودی نوجوانوں کو ٹریننگ دی جا رہی ہے ۔ روس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹرز بھی قائم کررہا ہے۔
روسی عہدیدار کے مطابق پرامن ایٹمی توانائی زیادہ سستی اور ماحول دوست ہے۔ یہ انسان کو نقصان پہنچاتی ہے اور نہ ہی ماحول کو۔
روس نے اپنی جامعات میں سعودی طلبہ کو ایٹمی تعلیم کیلئے اسکالر شپ دینے کا بھی اعلان کیا۔
روسی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب اور روس نے 2015ء میں پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال کے سلسلے میں تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔ اس سے ایٹمی توانائی کے روسی ادارے ’روساتوم‘ اور کنگ عبداللہ سٹی برائے ایٹمی توانائی کے درمیان شراکت مضبوط ہوگی۔
 معاہدے کے دو برس بعد 2017ء میں فریقین نے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے حوالے سے تعاون کے پروگرام پر دستخط کئے۔ یہ پروگرام ایک طرح سے ماسکو اور ریاض کے درمیان مکمل شراکت کے روڈ میپ کا درجہ رکھتا ہے۔
 ایک اور سوال پر روسی عہدیدار نے کہا کہ مستقبل ایٹمی توانائی بجلی پیدا کرنے کا ہے۔ جرمنی نے ایٹمی توانائی سے چھٹکارا حاصل کیا تو اس کے یہاں بجلی کے نرخ یورپی ممالک میں سب سے اوپر چلے گئے تھے۔ 

شیئر:

متعلقہ خبریں