Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دہائیوں داستانوں میں رہنے والے ’بھوت ہاتھی‘، جن کو ایک کھوجی نے ڈھونڈ ہی لیا

انگولا کے ایک ہاتھی ’ہنری‘ کی باقیات واشنگٹن کے میوزیم میں موجود ہے (فوٹو: سی این این)
افریقی ملک انگولا کی ایک کمیونٹی خود کو ہاتھیوں کی اولاد سمجھتی ہے اور اس کے حوالے سے ایک تاریخی کہانی بھی رکھتی ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برسہا برس قبل جھنڈ سے بچھڑے ایک چھوٹے ہاتھی نے کویمبو دریا کے کنارے پر اپنی کھال اتارنا شروع کی جس میں ایک مقامی شکاری نے اس کی مدد کی، اس کے بعد ہاتھی ایک عورت بن گیا اور ان دونوں کے ملاپ سے کانگالا کمیونٹی کا سلسلہ شروع ہوا۔
یہ لوگ ہاتھیوں کو مقدس جانتے ہیں اور کئی دہائیوں سے خود کو بھوتوں کا رکھوالا قرار دیتے ہیں۔  
اور ایسی ہی کہانیاں سن کر ایک کھوجی ان کا سراغ لگانے کے لیے نکلا۔
انیس سو پچہتر میں شروع ہونے والی خانہ جنگی جو ستائیس برس تک جاری رہی، کے دوران ایسا ناقابل رسائی علاقہ سامنے آیا جہاں جنگ کے دوران دنیا کے سب سے بڑے جانوروں نے پناہ لی تھی۔
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایکسپلورر سٹیو بوائز برسوں اس ریوڑ کے بارے میں جاننے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔ ایک دہائی قبل انہوں نے ایک سو اسی کیمرہ ٹریپس اور سینسرز سے لیس ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس علاقے کی طرف پرواز کی تاہم انہیں کوئی ہاتھی نہ ملا، تاہم اس معمے کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھتے چلے گئے۔
جرمن ہدایت کار ورنر ہرزوگ نے سٹیو بوائز کی مہم کو اپنی فلم ’گھوسٹ ایلیفینٹس‘ کا موضوع بنایا ہے، کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ موبی ڈیک کی سفید وہیل کے تعاقب جیسا ہے۔‘
اس میں انگولا اور نمیبیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور ایکسپلوررز کی کہانی بھی شامل ہے، جنہوں نے وہ کچھ حاصل کیا جو ٹیکنالوجی نہ کر سکی ہے۔

سٹیو بوائز نے نایاب ہاتھ کا پتہ چلانے کے لیے برسوں ناقابل رسائی علاقوں کا سفر کیا (فوٹو: سی این این)

ان کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر قدرتی چیزوں کے بارے میں ڈاکومنٹریز میں کسی نئے جانور کے سراغ کو بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے مگر میری فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے مگر وہ کچھ ہے جو کسی نے پہلے کبھی نہیں سنا۔‘
سٹیو بوائرز برسوں تک بھوتوں کا پیچھا کرتے ہوئے ہاتھیوں کے پاس جا پہنچے تھے اور ان کا تحفظ کرنا ہی ان کا مشن ہے۔
ہرزوگ کی فلم واشنگٹن کے سمتھسونین کے عجائب گھر سے شروع ہوتی ہے، جہاں اس کو ہنری نام کے ہاتھی کی باقیات ملتی ہیں جو تیرہ فٹ اونچا اور بارہ ٹن وزن کا حامل تھا جو ورلڈ ریکارڈ ہے۔
اس کو انیس سو پچپن میں ہنگری سے تعلق رکھنے والے ایک شکاری نے انگولا میں گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا اور سٹیو بوائز کا کہنا ہے کہ یہ آج کی ’بھوت‘ آبادی کا جد امجد ہے۔
اس بالائی مقام جو کہ گیلی زمینوں اور جنگلات پر مشمل ہے، کی تلاش میں کئی مہینے یہاں گزارے تھے۔
سٹیو بوائز نے سی این این کو بتایا کہ وہاں پر ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکتے تھے اور گاڑیاں بھی اس سے آگے نہیں جا سکتیں، موٹر سائیکلز کو دریا کے ساتھ کسی حد تک آگے لے جایا سکتا ہے اور وہاں پر بارودی سرنگیں بھی موجود ہیں۔
ان کے مطابق ’اس جگہ پر اگر کچھ تھا تو وہ تھا خوف کا احساس اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا مگر مجھے ہاتھیوں کے قدموں کے نشان تلاش کرنے اور ان پر آگے بڑھنا تھا۔‘
اس مہم کے دوران ان کی ٹیم نے دو سو پچہتر نئے جانوروں کا سراغ لگایا مگر کوئی ہاتھی نہ ملا۔

گھوسٹ ایلیفینٹس عام ہاتھیوں کی نسبت زیادہ بڑے اور کئی ٹن اضافی وزن رکھتے ہیں (فوٹو: پینتھرا ڈاٹ کام)

سات برس بعد ایک کیمرہ ٹریپ کی مدد سے ایک ہاتھی کی تصویر سامنے آئی جس کے بعد تلاش کو دو گنا کر دیا گیا۔
مقامی کمیونٹی کے ہاتھیوں سے تعلق کے حوالے سے ہونے والی مہم کے دوران دو ہزار چوبیس میں مزید کوششیں کی گئیں۔
سٹیو بوائز اور انگولا کے ماہر کیرلین کوسٹا کی تحقیق میں دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر بھی شامل ہوئے جو ہاتھیوں، روحوں اور بھوتوں کے حوالے سے الگ قسم کی کہانی بنانا چاہتے تھے۔
وہ کمیونٹی ارکان کو رقص کرتے ہوئے تب تک دکھاتے ہیں، جس کے بعد کچھ ارکان میں ہاتھی کی روح جسم میں داخل ہو جاتی ہے، وہ اس کو ’اندرونی سفر‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
سٹیو بوائز تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی مہم ناکامی کی طرف بڑھ رہی تھی اور ان کا خیال تھا کہ وہ اس کو ختم کر دیں گے۔
پھر انہیں خیال آیا کہ ہاتھی تیز سماعت رکھتے ہیں اس لیے خاموشی سے کام کیا جائے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ایک دیوہیکل ہاتھی ان کے سامنے آ گیا۔
کیمروں نے اس کی ہائٹ بارہ فٹ ریکارڈ کی جو کہ عام سے دو فٹ زیادہ تھی جبکہ وزن تین ٹن زیادہ وزن تھا۔
اس کی ٹانگیں بھی بہت لمبی تھیں اور سٹیو کا خیال تھا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ممالیہ ہو سکتا ہے۔
اس پر جنیاتی مواد لینے کے لیے مخصوص تیر چلایا گیا، جس پر وہ بھاگ گیا تاہم سیمپل مل چکا تھا اور پھر کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد بھی نہیں ملا۔
ٹیم اس امید کے ساتھ واپس کیمپ پہنچی کہ سیمپل کی بدولت گھوسٹ ہاتھیوں کا معمہ حل کیا جا سکے گا۔
کچھ مزید مہمات کے دوران مزید ڈی این اے حاصل کیے گئے۔
ان کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ بھوت ہاتھی دیگر تمام آبادیوں سے الگ ہیں۔
سٹیو بوائز کا کہنا ہے کہ ’ان کی مادری لائن مکمل طور پر منفرد ہے جو افریقہ کے کسی اور حصے میں نہیں اور نکنگالا کے لوگوں سے ساتھ یہ ان وادیوں میں الگ تھلگ طور پر رہ رہے ہیں۔
’گھوسٹ ایلیفینٹس‘ نام کی فلم اس وقت ڈزنی اور ہولو کے پلیٹ فارمز پر چل رہی ہے۔

شیئر: