Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب نے ریاض اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون مار گرائے

سعودی عرب نے جمعے  کی شب اپنے مشرقی اور وسطی علاقوں، دارالحکومت ریاض کے سفارتی کوارٹر اور جنوب مشرق میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے۔
وزارتِ دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک سلسلہ وار پیغامات میں فضائی حملوں کی تفصیلات جاری کیں۔
وزارت کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے ریاض کے سفارتی کوارٹر کے قریب پہنچنے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا جبکہ الخرج گورنریٹ اور ربع الخالی کے علاقوں میں کم از کم سات ڈرون روک کر مار گرائے گئے۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اب تک سعودی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دو درجن سے زائد ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں ڈرون جو مملکت کے مشرقی اور وسطی علاقوں کی جانب بڑھ رہے تھے، انہیں بھی راستے میں ہی مار گرایا گیا۔ مزید برآں ایک اور ڈرون ریاض کے سفارتی کوارٹر کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی متعدد لہروں کا سامنا ہے۔
ان حملوں میں پرنس سلطان ایئر بیس، ریاض میں امریکی سفارت خانہ، تیل کے ذخائر اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ان حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔
ادھر سعودی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی اس قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ایران سے خلیجی ممالک اور اردن پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شیئر: