مصر : ’بلی بھی ملکہ حسن ہو سکتی ہے ‘

اہل مصر نے پالتو جانوروں کے لیے نئی روایت شروع کی ہے۔
اہل مصر نے پالتو جانوروں کے لیے نئی روایت شروع کی ہے۔ جانوروں کے ڈاکٹرو ں نے النیل ڈیلٹا کے شہر دسوق میں بلیوں کے درمیان ملکہ حسن کا مقابلہ منعقد کیا۔ پالتو جانوروں کی صحت اور عوام میں آگہی پیدا کرنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔
الشرق الاوسط کے مطابق بلیوں کی چھوٹی سی کلینک میں اس کا ا ہتمام معروف ڈاکٹر محمد رفعت نے کیا تھا۔ فیس بک پر اس حوالے سے خوبصورت بلیاں پیش کرنے کی سہولت فراہم کی تھی۔
 ڈاکٹر محمود رفعت نے امیدواروں سے درخواست کی کہ وہ اپنی خوبصورت بلی کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے نام بھی دیں تاکہ ان سے بلی کے بارے میں پوچھا جاسکے۔
مزید پڑھیں
 ڈاکٹر رفعت کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ بلی کے مالکان مقررہ نظام الاوقات کے مطابق بلیوں کا طبی معائنہ کرائیں، انکی صفائی ستھرائی اور جمالیاتی پہلوﺅں کا خیال رکھیں۔ 
ڈاکٹر رفعت کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایک طرف تو بلیوں کی نگہداشت ہے دوسری جانب بلی پالنے والوں کو انکے ممکنہ نقصانات سے بچانا بھی ہے۔ بلی بیمار ہوتی ہے اور اس کے مالک کو پتہ تک نہیں ہوتا۔ چاہتے تھے کہ جب بھی بلیاں بیمار ہوں پہلی فرصت میں انکا طبی معائنہ کرایا جائے اور انکے علاج پر توجہ دی جائے۔ بلی کو ملکہ حسن کا لقب دینا یہ تو ایک بہانہ ہے۔
مقابلے میں ملکہ حسن کا ٹائٹل جیتنے والی بلی کی مالکہ ریناد شاکر نے کہا کہ جب سے میری بلی کو ملکہ حسن ملا ہے مزہ ہی آگیا۔ اس سے قبل کبھی نہیں سنا تھا کہ بلی بھی ملکہ حسن ہوسکتی ہے۔
 سچی بات یہ ہے کہ اس سے قبل میں اپنی بلی کا اتنا دھیان نہیں رکھتی تھی۔ کہیں بھی اسے بٹھا دیتی اور کہیں بھی لٹا دیتی تھی مگر اب اسے ملکہ حسن قرار دیا گیا تب سے وہ میری جان بن گئی ہے۔ حد سے زیادہ اسکا دھیان رکھنے لگی ہوں۔

شیئر: