Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی جارحانہ کرکٹ، آسٹریلیا آؤٹ کلاس ہوگیا: عامر خاکوانی کا تجزیہ

پاکستان نے آسٹریلیا کو دوسرے ٹی20 میچ میں ہرا کر تین میچز کی سیریز میں دو صفر سے فیصلہ کُن برتری حاصل کر لی ہے۔ 
سیریز جیتنا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، وہ بھی آسٹریلیا جیسی تگڑی ٹیم سے۔سنیچر کے میچ میں مگر خاص بات پاکستانی ٹیم کا جارحانہ سٹائل اور نہایت پُراعتماد انداز تھا۔ یہ وہ چیز تھی جو عرصے سے پاکستانی ٹیم میں مِسنگ تھی۔ 
سب سے اہم بات کپتان سلمان آغا کی ٹرانسفارمیشن ہے۔ آج کل شادیوں میں بعض معروف شخصیات کی مکمل ٹرانسفارمیشن زیرِبحث ہے، جو اچانک ہی یکسر تبدیل ہوگئے۔ سلمان آغا دوسرے میچ میں ایک بالکل تبدیل شدہ کھلاڑی نظر آئے۔ 
سلمان علی آغا ٹی20 ٹیم کے کپتان ہیں، مگر انہیں عالمی ٹی20 لیگز میں اہمیت نہیں دی جاتی، پی ایس ایل میں بھی اُن کا کوئی خاص نام نہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ٹی20 فارمیٹ کے کھلاڑی ہی نہیں اور ٹیم پر ایک بوجھ ہیں۔ 
لگتا ہے یہ بات سلمان آغا نے اپنے دل پر لے لی۔ انہوں نے شاید گذشتہ دو تین ہفتوں میں ہارڈ ہٹنگ پر محنت کی، پاور شاٹس کھیلنے کی بار بار مشق کی اور اپنے انداز کو تبدیل کیا۔ 
 آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں بھی سلمان علی آغا ون ڈاون آئے اور انہوں نے آکر چند اچھے شاٹس لگائے، زوردار چھکے بھی جن میں شامل تھے۔ دوسرا میچ تو مگر سلمان آغا کے نام ہی رہا۔ 
انہوں نے پاور پلے میں چھکوں چوکوں کی بارش کر دی اور کوئی 200 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی۔ پاکستان کی پاور پلے میں کارکردگی شاندار رہی، حیران کن پرفارمنس۔ پہلے پانچ اوورز میں 13 رنز فی اوور کے حساب سے 65 رنز بنائے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ 
صاحبزادہ فرحان دوسرے میچ میں بھی جلد آوٹ ہوگئے۔ صائم ایوب اچھا کھیل رہے تھے، مگر وہ بھی چلے گئے۔ بابراعظم آئے مگر لگتا ہے اُن کے لیے مسائل کم نہیں ہوئے۔ 
پچھلے میچ میں بھی ایڈم زمپا کو وہ عیجب وغریب ریورس شاٹ کھیلتے ہوئے ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ اس میچ میں بھی بابر اعظم زمپا کا شکار بنے۔زمپا کی گیند اچھی تھی، مگر بابر جیسے اچھے بلے باز سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایک لیگ بریک گیند کو ٹانگ نکال کر کھیلنے کے بجائے یوں بیک فٹ پر کراس کھیل کر ایل بی ڈبلیو ہوجائیں گے۔ بابر کی فارم پاکستانی ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ 
دوسرے ٹی20 میچ میں فخر زمان کو باہر بٹھا کر فہیم اشرف کو بطور آل راؤنڈر کھلایا گیا۔ یوں فخر کی جگہ عثمان خان نمبر پانچ پر آئے۔ عثمان پر بھی رنز بنانے کا دباؤ موجود ہے۔ 
خواجہ نافع جیسا اچھا ہِٹر اُن کے متبادل کے طور پر بینچ پر موجود ہے۔ عثمان خان نے اچھی اننگز کھیلی، سنگلز لیے، چوکے لگائے اور بلند وبالا چھکے بھی۔ 
عثمان خان نے لگ بھگ 150 کے سٹرائیک ریٹ سےعمدہ نصف سینچری بنائی، تاہم اصل کریڈٹ سلمان آغا کو جاتا ہے جنہوں نے پاور پلے کے بعد بھی اچھے کھیل کا سلسلہ جاری رکھا۔ 
انہوں نے وکٹ کے چاروں طرف شاٹس کھیلے اور کسی بھی آسٹریلوی بوولر کو لِفٹ نہیں کرائی۔ سلمان آغا نے شاید پہلی بار 200 کے قریب سٹرائیک ریٹ سے ایک بڑی اننگز کھیلی۔ چار چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 40 گیندوں پر 76 رنز بنانا بہت ہی مُتاثرکن اننگز ہے۔ 
سلمان آغا نے اس میچ میں خود کو دریافت کیا ہے۔ اس اننگز سے اُن پر دباؤ کم ہو جائے گا، اُن میں اعتماد آئے گا اور اگر پاکستان ورلڈ کپ کھیلا تو سلمان آغا زیادہ پُراعتماد ہو کر جائیں گے۔ اُن کا نمبر تین پر آنا بھی اب طے ہوگیا۔ 
 شاداب خان نے بھی بہتر اننگز کھیلی، آخری اوور میں نواز نے دو عمدہ چوکے لگائے۔ پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 198 رنز بنا ڈالے۔
 اگرچہ 198 رنز کا ہدف خاصا مشکل تھا، مگر آسٹریلیا سے فائٹ کی توقع تو تھی، ابتدا میں وہ تیز کھیلے بھی، مگر جلد ہی صائم ایوب کی سلو لیگ بریک اور پھر محمد ابرار کی گُھومتی گیندیں اور شاداب خان کی اچھی بولنگ کارگر رہی۔
 محمد نواز نے بھی اپنا کام کر دکھایا۔ مِسٹری سپنر عثمان طارق کو اس میچ میں کھلایا گیا، عثمان طارق نے ڈھائی اوورز کرائے اور 16 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار بھی کفایتی بولر رہے۔ 3 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔ شاداب خان نے 4 اوورز میں 26 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب نے اچھی بولنگ کرائی، مگر ان کا ایک اوور مہنگا پڑا، 19 رنز لگ  گئے۔ 
 اس میچ میں شاہین شاہ آفریدی بھی نہیں کھیلے تھے، مگر نسیم شاہ کو صرف ایک اوور ہی ملا جبکہ دیگر پانچوں بولرز سپنرز تھے۔ 
ورلڈ کپ کے لیے دو سپیشلسٹ سپنرز ابرار اور عثمان طارق کو کھلانا تو ٹھیک ہے، مگر نواز، شاداب اور صائم کے ہوتے ہوئے پانچ سپنرز شاید زیادہ ہوجائیں۔ 
بہرحال یہ فارمولا بہت ہی کامیاب رہا۔پاکستان کی عمدہ بولنگ کے نتیجے میں آسٹریلیا کی ٹیم سولہویں اوور میں 108 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور یوں پاکستان 90 رنز سے جیت گیا۔ 
 یہ بتانا ضروری ہے کہ آسٹریلیا کے دو تجربے کار اور اہم بلے باز کپتان مچل مارش اور جوش انگلس آج کا میچ کھیلے تھے، یعنی آسٹریلوی بیٹنگ ہرگز ناتجربہ کار نہیں تھی۔ ٹریوس ہیڈ، مارش، انگلس جوش، کیمرون گرین، میٹ رینشا، کونلے وغیرہ معمولی کھلاڑی نہیں۔ یہ آسٹریلیا کی ورلڈ کپ بیٹنگ لائن اپ ہے، اس میں صرف میکسویل کا اضافہ ہی ممکن ہے۔ 
پاکستان نے نہ صرف میچ بہت اچھے طریقے سے جیت لیا، بلکہ ایک نئے جارحانہ اور پُراعتماد انداز سے کھیلنے  کی خاصی کامیاب کوشش بھی کی۔ 
یہ ماڈرن ٹی20 ہے جو پاکستانی ٹیم نے کھیلی۔ اس اعتبار سے یہ کامیابی بہت اہم اور مُتاثرکن ہے۔ ویل ڈن ٹیم پاکستان۔ 
بیسٹ وشز فار لاسٹ میچ۔ پاکستان کو اب وائٹ واش کی طرف جانا چاہیے۔ یہ غیر معمولی کامیابی ہوگی۔
 

شیئر: