’فالس فلیگ آپریشن‘ کا ذکر کیوں ہوتا ہے؟

عسکری ماہرین کے مطابق فالس فلیگ آپریشن سے بچنے کے لیے انٹیلی جنس صلاحیت بڑھانا ضروری ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں جاری کرفیو اور لاک ڈاون کی صورتحال پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جب بھی بات کی تو ان کی جانب سے تواتر سے کہا گیا کہ انڈیا کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کر سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اپنی تقاریر، بیانات اور ٹوئٹر پیغامات میں انڈیا کی جانب سے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔

فالس فلیگ آپریشن کیا ہے؟

آپ نے پلوامہ حملے کا تو سن رکھا ہوگا؟ یا اس سے پہلے پٹھان کوٹ حملے کا ذکر بھی سنا ہوگا؟ انڈیا ان حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے اور پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے انڈیا نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کرائے۔ اگر پاکستان کے موقف کو درست مان لیا جائے تو پلوامہ اور پٹھان کوٹ کے حملے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔
اس بارے میں سابق سیکرٹری دفاع لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ خالد نعیم لودھی نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی کارروائی ہے جو حقیقت میں عمل میں لائی جاتی ہے لیکن جس پر اس کے کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ اس میں ملوث نہیں ہوتا۔
ریئر ایڈمرل ریٹائرڈ سلیم اختر کہتے ہیں کہ ’انڈیا خود کارروائی عمل میں لاکر پاکستان کو دہشت گردوں کا معاون ملک ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم اسے فالس فلیگ آپریشن کا نام دیتے ہیں۔‘

دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر فالس فلیگ آپریشن کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

فالس فلیگ آپریشن کے مقاصد کیا؟

فالس فلیگ آپریشن کا بنیادی مقصد کسی تنظیم یا ملک کے خلاف کارروائی کرنے کا بہانہ تلاش کرنا، کسی دوسرے ملک کو بدنام کرنا اور موجودہ دور میں اسے دہشت گرد ملک ثابت کرنا یا اسے دہشت گردوں کا معاون ثابت کرنا ہو سکتا ہے۔
لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ خالد لودھی کے مطابق ’ایک ملک کے اداروں کو کسی بڑی کارروائی کی خبر ہو اور وہ اسے روکنے کے اقدامات صرف اس لیے نہ کریں کہ اس کا الزام وہ اپنے دشمن ملک پر عائد کرسکیں گے تو اسے بھی فالس فلیگ آپریشن ہی کہا جائے گا۔‘
ریئر ایڈمرل سلیم اختر کہتے ہیں کہ ’انڈیا دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک خراب امیج پیش کرتا ہے اور ماضی میں اسے کامیابی بھی ملی ہے وہ اب ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے ہر اجلاس سے پہلے انڈیا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرتا ہے۔‘
وائس ایڈمرل راؤ افتخار نے ’اردو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’حال ہی میں ایل او سی پر دو سویلین کو پکڑ کر دہشتگردوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ اور سرکریک پر خالی کشتیوں کا شوشہ، یہ سب کسی نہ کسی فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کا حصہ ہیں۔‘

انڈیا نے حال ہی میں دو افراد کو درانداز کے طور پر پیش کیا جبکہ پاکستان دونوں کو کشمیری کسان بتاتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

فالس فلیگ آپریشن کا پاکستانی خدشہ کتنا درست

ماہرین کی نظر میں پاکستان کے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور عسکری قیادت کا یہ خدشہ درست ہے کہ انڈیا فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔
لیفٹینینٹ جنرل خالد نعیم لودھی کے مطابق ’کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے انڈیا فالس فلیگ آپریشن کرکے پاکستان پر محدود حملے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے۔ تاہم ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ ہم اس کے فالس فلیگ آپریشن کا بھانڈہ پھوڑ سکیں۔‘

پاکستان کے پاس آپشنز کیا؟

جب پاکستان کو علم ہے کہ انڈیا فالس فلیگ آپریشن یعنی جعلی کارروائی عمل میں لا سکتا ہے تو ایسے میں پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں کہ وہ اس کا توڑ کر سکے۔؟
دفاعی ماہرین کے مطابق اس کا سب سے بڑا توڑ یہ ہے کہ دنیا کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے اور پاکستان اپنی کاؤنٹر انٹیلی جینس کی صلاحیت میں اضافہ کرے۔
لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ خالد نعیم لودھی کے مطابق ’جونہی آپ کو کسی بھی فالس فلیگ آپریشن کی بھنک پڑے آپ فوراً اس کو ایکسپوز کر دیں۔‘
انھوں نے اس حوالے سے اردو نیوز کو ایک پرانا واقعہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں پاکستانی انٹیلی جنس کو معلوم ہوا تھا کہ انڈیا ایک فالس فلیگ آپریشن کرنے جا رہا ہے تو اس وقت کے مشیر قومی سلامتی نے اپنے انڈین ہم منصب اجیت دوول کو فون کیا اور انھیں بتایا کہ ہم آپ کو اطلاع کر رہے ہیں کہ آپ کے ملک میں فلاں جگہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کئی بار انڈیا کے فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

خالد نعیم لودھی نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد انڈیا نے اس فالس فلیگ آپریشن کا ارادہ منسوخ کر دیا تھا۔
لیفٹینینٹ جنرل خالد نعیم لودھی نے کہا کہ ’جب آپ کی انٹیلی جنس صلاحیت اس قابل ہو کہ آپ دشمن کے ارادے بھانپ لیں اور آپ کے پاس معلومات بروقت پہنچ جائیں تو بعض اوقات دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں خود ہی خفیہ معاہدہ کر لیتی ہیں کہ وہ فالس فلیگ آپریشن نہیں کریں گی۔‘
رئیر ایڈمرل ریٹائرڈ سلیم اختر کہتے ہیں کہ دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ سرکریک ایک متنازعہ علاقہ ہے جہاں سمندری حدود کی نشاندہی واضح نہیں اور پانی کا بہاؤ کشتیوں کو بہا کر کبھی ادھر اور کبھی ادھر لے جاتا ہے۔

پاکستان کتنا کامیاب؟

پانچ اگست سے لے کر اب تک پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کئی ممالک کے سربراہان مملکت جن میں امریکہ، سعودی عرب، جرمنی، چین، ترکی اور دیگر شامل ہیں، سے ٹیلی فونک رابطے کرکے اپنے اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب اور دنیا بھر کے ملکوں کے وزرائے خارجہ سے اس مسئلے پر بات کی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان بین الاقوامی سرحد محفوظ ہے تاہم کنٹرول لائن پر کشیدگی رہتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر بھی کئی بار فالس فلیگ آپریشن کے معاملے پر اظہار خیال کر چکے ہیں جس کا بنیادی مقصد دنیا کو انڈیا کی مبینہ حکمت عملی سے آگاہ کرنا ہے۔
وائس ایڈمرل راؤ افتخار کا موقف ہے کہ ’پاکستان نے دنیا کو انڈیا کی نیت اور منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے اور تمام عالمی راہنماؤں اور فورمز پر موثر طریقے سے آواز اٹھائی ہے جس کے فوائد بھی سامنے آ رہے ہیں۔‘
ریئر ایڈمرل سلیم اختر کا موقف مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا جانتا ہے کہ پاکستان معاشی اور سفارتی دباؤ میں ہے جس کا وہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے حوالے سے مقامی سطح پر شور زیادہ کر رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر جس انداز کی سفارت کاری کی ضرورت تھی وہ نہیں ہو سکی۔‘
پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: