نوکری کے وعدے پر ’فرضی کورس‘ کا شکار خواتین

کمپنی کی جانب سے انہیں واٹس اپ پر معمولی کورسز کرائے گئے بعدازاں سند بھی جاری کی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
جازان ریجن میں نوکری دلانے کی شرط پر پروفیشنل کورس کرانے کا جھانسہ دے کر فرضی کمپنی کے کارندوں نے 400 خواتین سے بھاری رقم ہتھیائی ہے۔ متاثرہ خواتین نے وزارت محنت و سماجی بہبود سے رابطہ کر کے شکایت درج کرائی ہے۔
عربی اخبار عکاظ کے مطابق وزارت محنت و سماجی بہبود نے دھوکے بازی میں ملوث  فرضی کمپنی کے مفرور مالکان کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔
واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے  متاثرہ خاتون نے کہا کہ انہیں واٹس اپ پر پیغام ملا کہ ایک کمپنی محض 200 ریال کے عوض پروفشنل تعلیمی کورس منعقد کرا رہی ہے جس کے بعد کمپنی  کی جانب سے سرکاری سکول میں نوکری بھی دلائی جائے گی۔ خاتون کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے ریجن میں متعدد خواتین نے کمپنی میں خود کو رجسٹر کرایا اور مطلوبہ فیس 200 ریال بھی ادا کر دی۔
کمپنی کی جانب سے انہیں واٹس اپ پر معمولی کورسز کرائے گئے بعد ازاں سند بھی جاری کی گئی جو کسی بھی تعلیمی ادارے یا یونیورسٹی سے رجسٹرڈ نہیں تھی۔
مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بعض متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ اس امر سے واقف نہیں تھیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے کیونکہ واٹس اپ پر جس طرح کے پیغامات جاری کیے گئے اور ترغیب دی گئی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ کورس کرانے کے بعد نوکری پکی ہو جائے گی اس لیے انہوں نے مقرر کی جانے والی فیس، جو کہ 200 ریال تھی ادا کر دی۔
مذکورہ ادارے کی جانب سے فرضی سند کے ساتھ پیغام موصول ہوا کہ کسی بھی سکول میں جاکر یہ سند دکھائیں اور نوکری حاصل کر لیں۔ متاثرہ خواتین نے اس حوالے سے پولیس میں بھی شکایت درج کرائی جس پر وزارت محنت نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم ملزمان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
فرضی ادارے کی مالکہ کے حوالے سے مقامی اخبار عکاظ کا کہنا تھا کہ کمپنی کی جانب سے جس خاتون کو فرنٹ پر رکھا گیا تھا اس نے ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر حاصل کیا تھا جہاں اس نے فرضی ادارے کا دفتر بھی بنایا۔ مفرور ملزمہ نے یہ تاثر بھی دیا کہ ہوٹل کے کمرے میں ادارے کی برانچ کھولی گئی ہے جہاں مزید خواتین کو نوکری پر رکھا جائے گا۔
اس ضمن میں وزارت محنت و سماجی بہبود کے ریجنل ڈائریکٹر احمد القنفذی کا کہنا ہے کہ مذکورہ فرضی ادارے کے خلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے گورنریٹ اور متعلقہ اداروں کو بھی اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں​

شیئر:

متعلقہ خبریں