‏سپریم کورٹ بار کے صدر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد

مزید تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ فنڈز میں چار کروڑ روپے تک کی خرد برد ہوئی ہے. فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے خصوصی جنرل میٹنگ میں بار کے صدر امان اللہ کنرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔
ایس سی بی اے کے ایک اعلامیہ کے مطابق امان اللہ کنرانی کے مبینہ طور پر خرد برد میں ملوث ہونے پر عدم اعتماد کی قرار داد پاس کی گئی ہے۔ قرار داد لاہور میں منعقد ہونے والے بار کے جنرل میٹنگ میں پاس کیا گیا ہے۔  
بیان کے مطابق  امان اللہ کنرانی نے اسلام آباد میں قائم وکلا کے ہاسٹل کی 85 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بار کے اکاونٹ میں جمع کرانے میں ناکام رہے اور نہ ہی انہوں نے اس پر اٹھنے والے سوالات کا کوئی جواب دیا۔
بیان کے مطابق جنرل اجلاس میں اس معاملے کو قومی احتساب بیورو اور ایف آ ئی اے کو بھجوانے کی منظوری بھی دی گئی۔  بیان کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں امان اللہ کنرانی کے خلاف اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 13 ستمبر کو سپریم بار اسوسی ایشن آف پاکستان کے فنانس سیکرٹری محمود احمد شیخ نے تھانہ سکرٹیریٹ کے ایس ایچ او کو کنرانی کے خلاف فوجداری مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دی تھی۔  درخواست میں کہا گیا تھا کہ وکلا کا ہاسٹل اسلام آباد کے سیکٹر جی 5/2 میں واقع ہے جہاں کے اخراجات کا حسات کتاب رکھنے کے لیے امان اللہ کنرانی نے محسن علی نام کے شخص کو رکھا ہوا تھا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 26 اگست کو ایگزیکٹیو کمیٹی نے ایڈیشنل سیکرٹری احسن حمید، فنانس سیکرٹری اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر لیاقت علی ترین کو 1 مئی سے لے کر 2 ستمبر تک کے اخراجات کی جانچ  پڑتال کرنے کے لیے مقرر کیا۔ ہاسٹل پہنچنے پر ٹیم نے محسن علی کو بلایا اور ان سے تفصیل مانگی جس پر محسن علی نے ٹیم کو بتایا کہ انہیں ہاسٹل کے اخراجات کی مد میں کوئی رقم موصول نہیں ہوئی۔
اس معاملے میں مزید تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ فنڈز میں چار کروڑ روپے تک کی خرد برد ہوئی ہے۔ اس پر ٹیم کے تینوں ممبران نے تھانہ سیکرٹیریٹ میں تحقیقات کے لیے درخواست بھی جمع کرائی ہے۔

شیئر: