عدنان سمیع پر جرمانہ لیکن کروڑوں کی جائیداد بچ گئی

عدنان سمیع نے 2003 میں ممبئی میں آٹھ فلیٹس خریدے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈین میڈیا کے مطابق ایک عدالت نے پاکستانی نژاد انڈین گلوکار عدنان سمیع پر 50 لاکھ اںڈین روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
اس جرمانے کو ان کے لیے اچھے شگون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کی ادائیگی پر ان کی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد بچ جائے گی۔
فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کے تحت یہ جرمانہ 2003 میں انڈیا کے ریزرو بینک سے اجازت لیے بغیر ممبئی میں آٹھ فلیٹس اور پانچ پارکنگ کی جگہیں خریدنے کے لیے لگایا ہے۔
جس دوران عدنان سمیع نے یہ مکان خریدے اس وقت وہ پاکستانی شہری تھے اور کسی بھی غیر ملکی کے لیے انڈیا میں املاک کی خریداری کے لیے ریزرو بینک سے اجازت لینا ضروری ہے لیکن عدنان سمیع نے بینک سے اجازت نہیں لی تھی۔
عدالت نے اس سے قبل 2010 میں ممبئی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سپیشل ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کیے جانے والے حکم کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت عدنان سمیع کی املاک کو ضبط کرنے کے ساتھ ان پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

عدنان سمیع اپنی گلوکاری کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔ فوٹو: اے ایف پی

اس کے بعد عدنان سمیع نے اس فیصلے کو اپیلٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا اور اب نئے فیصلے کے تحت انہیں 50 لاکھ روپے جرمانہ تین ماہ میں ادا کرنا ہے جس میں سے وہ پہلے ہی 10 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں۔
عدنان سمیع پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہیں سے انہوں نے شہرت کی بلندیاں حاصل کیں لیکن پھر انہوں نے ممبئی کو اپنا گھر بنا لیا اور ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دی جس پر کئی سالوں تک غور کرنے کے بعد 2016 میں انہیں انڈیا کی شہریت دے دی گئی۔
12 ستمر کو عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدنان سمیع نے یہ جائیداد اس وقت خریدی جب وہ انڈیا میں کام کر رہے تھے۔ تمام اثاثے انڈین بینک کے ذریعے انڈین کرنسی میں خریدے گئے تھے۔ اس پراپرٹی کے لیے بینک سے قرض بھی لیا گیا تھا اور اسے واپس کر دیا گیا تھا۔
عدنان نے ہندوستان میں رقم کمانے کے بعد انکم ٹیکس بھی جمع کرایا ہے اور اس کے بعد ہی انہوں نے انڈین شہریت کے لیے درخواست دی۔
’دا ہندو‘ میں شائع خبر کے مطابق عدنان سمیع نے ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ میں آٹھ فلیٹس خریدے تھے جبکہ اس میں سے پانچ فلیٹس اور کچھ کار پارکنگ کی جگہیں انہوں نے اپنی اہلیہ صباح گلادری کے نام کر دیا تھا لیکن بعد میں ایک عدالت نے ان کی شادی کو کالعدم قرار دیا تھا۔
انڈین خبروں کے لیے ’’اردونیوز انڈیا‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: