سعودی تنصیبات پر حملہ ’جنگی عمل‘ ہے، امریکی سینیٹر

امریکی حکام کو یقین ہے کہ ایران نے کروز میزائل داغے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد کئی امریکی سینیٹرز نے جوابی کارروائی میں محتاط طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے حامی سینیٹر لنڈسے گراہم نے واقعہ کو ’جنگی عمل‘ قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے کہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق لنڈسے گراہم نے کہا کہ ڈرون کے ذریعے دنیا کے بڑے تیل صاف کرنے والے پلانٹ پر اتنا بڑا حملہ ایران کی حکومت کے ملوث ہوئے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو آرامکو آئل تنصیبات پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کی حکمت عملی پر بات کرنے کے لیے منگل کو سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوگئے۔
الشرق الاوسط کے مطابق مائیک پنس نے کہا ہے کہ پومپیو ہفتہ کو ابقیق اور خریص میں آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کی تفصیلات پر سعودی قائدین سے بات چیت کریں گے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ’امریکہ کو یقین ہوگیا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملہ ایران کی سرزمین سے کیا گیا اور اس میں بین البراعظمی کروز میزائل استعمال کئے گئے۔‘

امریکہ کو یقین ہوگیا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملہ ایران سے کیاگیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یہ بھی کہا ہے کہ ’امریکی حکومت اپنی اطلاعات کو مدلل شکل میں سامنے لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ وہ عالمی برادری خصوصا یورپی ممالک کو اپنی معلومات کے حوالے سے قائل کرنے کے لیے مکمل فائل تیار کر رہی ہے۔‘
اے ایف پی کے مطابق امریکی عہدیدار سے دریافت کیا گیا کہ کیا امریکہ کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ میزائل ایران کی سرزمین سے چلائے گئے، انہوں نے جواب دیا ’’جی ہاں‘‘۔
امریکی عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کے خفیہ ادارے میزائل داغنے والے فریق کی نشاندہی پر قادر ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے میزائل داغے گئے۔ یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ ’’میں اس قسم کی تفصیلات کے چکر میں نہیں پڑوں گاَ۔‘‘
امریکہ کے نائب صدر نے ہیرٹگ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے ثبوت کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے اور اپنے مفادات اور مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کے مفادات کے دفاع کے لئے تیار ہے‘‘۔
امریکہ کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ’’اگر ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کے لیے سعودی عرب پر حملے کئے ہیں تاکہ وہ ایران پر پابندیوں کا فیصلہ واپس لے لے تو ایران کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا‘‘۔
 

شیئر: