’موسمیاتی تبدیلی کو روکو، یہاں کوئی دوسرا سیارہ نہیں‘

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں لوگ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آگاہی مہم کے لیے گھروں سے باہر نکلے۔
دیگر ممالک میں بھی بچوں کی بڑی تعداد نے جمعے کے روز سکول سے چھٹی کر کے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔
موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اس تحریک کا آغاز سویڈن سے تعلق رکھنے والی ایک بچی گریٹا تھنبرگ نے کیا تھا۔
انہوں نے رواں سال مئی میں احتجاجی مارچ کی تحریک شروع کی تھی جس میں دنیا بھر سے 14 لاکھ بچوں نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے اس مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اگلے مرحلے میں بڑوں کو بھی مارچ کی دعوت دیں گے۔ 
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ احتجاج موسمیاتی تبدیلیوں سے زمین کو لاحق خطرات کے خلاف اب تک کیا جانے والا سب سے بڑا احتجاج ہے۔

منتظمین نے احتجاج میں 10 لاکھ مظاہرین کی شرکت کا دعویٰ کیا ہے، فوٹو: اے ایف پی

جمعے کو ایشیا سے بحرالکاہل تک بچوں اور بڑوں نے نعرے لگاتے اور ہاتھوں میں پلے کارڈز لہراتے ہوئے احتجاج شروع کیا جو بعد میں افریقہ اور یورپ تک پھیل گیا جہاں ہجوم سڑکوں پر نکل آیا۔
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں فرئیر ہال میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کی۔ شرکاٗ میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں اور طلبہ کی تھی۔
شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نعرے اور حکام سے فوراً اقدامات کرنے کے مطالبات درج تھے۔ 
اس موقعے پر مچھلیوں کے لیے کام کرنے والے فورم ’فشر فوک‘ کی عہدیدار فاطمہ مجید کا کہنا تھا کہ سمندروں میں آلودگی کی وجہ سے ماہی گیروں کا روزگار خطرے میں ہے۔
ادھر انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج میں شامل 15 سالہ ویہان اگروال کا کہنا تھا کہ ’ہم مستقبل ہیں، ہم سکول کے طالب علم ہیں اور سکول نہیں جا رہے۔ ہمارا خیال ہے کہ سکول جانے کا کوئی فائدہ نہیں اگر ہمارے پاس یہاں رہنے کے لیے کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘
احتجاج کے منتظمین نے 10 لاکھ مظاہرین کی شرکت کا دعویٰ کیا ہے۔ صرف آسٹریلیا میں ہی منتظمین کے مطابق تین لاکھ بچوں اور بڑوں نے ریلی میں شرکت کی ہے۔

ایشیا سے بحرالکاہل تک بچوں اور بڑوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا، فوٹو: اے ایف پی

ٹوکیو میں مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلی کو ابھی روکو! یہاں کوئی دوسرا سیارہ نہیں، جاگو!‘
اپنے ساتھیوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک 32 سالہ چیکا مروتا نے کہا کہ ’ہمیں اپنی اگلی نسل کے لیے کچھ ذمہ داری لینا ہو گی۔‘
سکول کی طالبہ 16 سالہ گریٹا تھنبرگ نے رہنماؤں کو موسمیاتی تبدیلی سے بچنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
ہڑتال کے موقعے پر انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’ہر چیز معنی رکھتی ہے، آپ جو بھی کرتے ہیں وہ معنی رکھتا ہے۔‘

مظاہروں میں سکول کے بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، فوٹو: اے ایف پی

تھائی لینڈ کی 12 سالہ بچی ’للی‘ جنہیں تھائی لینڈ کی گریٹا کہا جاتا ہے، نے اے ایف پی کو بنکاک میں بتایا کہ ’ہم مستقبل ہیں اور ہم بہتر ماحول کے مستحق ہیں۔‘
’لِلی‘ نے پلاسٹک کے خاتمے کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے، انہوں نے رواں سال جون میں اپنی کوششوں سے دارالحکومت بینکاک کی مرکزی مارکیٹ کے دکانداروں کو آمادہ کر لیا تھا کہ تمام سٹورز ہفتے میں ایک دن پلاسٹک تھیلوں کا استعمال نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بڑے اس بارے میں صرف باتیں کر رہے ہیں، عملی طور پر کچھ نہیں  کر رہے۔ ہمیں کوئی بہانہ نہیں چاہیے۔‘

شیئر: