’اگر ایوارڈ نہیں بھی ملتا تو کوئی دکھ نہیں ہوگا‘

امر خان کا نام پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک ابھرتے ستارے کے طور پر لیا جارہا ہے۔ امر لاہور میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں۔ بیکن ہاؤس نیشنل یونورسٹی سے فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے تھیٹر اور ٹیلیویژن کا رخ کیا جبکہ وقتاً فوقتاً لکھتی بھی رہتی ہیں جس میں ٹیلی فلم 'چشم نم' قابل ذکر ہے۔
امر خان نے اپنے کیریئر کا باقاعدہ آغاز گذشتہ سال امرتا پریتم کے ناول 'پنجر' سے ماخود ڈرامہ سیریل 'گھگھی' سے کیا۔ آمنہ مفتی کی ڈرامائی تشکیل میں بنائے گئے 'گھگھی' کی کہانی تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ہے جوانتقام کے لیے ایک مسلمان مرد کے ہاتھوں ایک ہندو لڑکی کے اغوا کے گرد گھومتی ہے۔ امرخان نے اس ڈرامے میں 'نرملا' نامی ہندو لڑکی کا مرکزی کردار ادا کیا تھا جس میں ان کے مقابل عدنان صدیقی تھے۔ امر کا دوسرا مشہور کردار ہم ٹی وی کے غیبی طاقتوں پر مبنی ڈرامہ سیریل 'بیلا پور کی ڈائن' میں 'نیلوفر' نامی ڈائن یا بدروح کا تھا جس کے لیے وہ اس سال ملک کے تین اہم بڑے ایوارڈز کے لیے نامزد ہیں۔

امر خان نے بیکن ہاؤس نیشنل یونورسٹی سے فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کی ہے (فوٹو:انسٹا گرام)

اس وقت امر ہم ٹی وی کی ایک منی سیریز 'چھوٹی چھوٹی باتیں' میں اہم رول ادا کرہی ہیں جس کی ہدایات اینجلین ملک نے دی ہیں۔ ڈرامے کا موضوع ایک عورت کی سیرت سے زیادہ  اس کی صورت کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔ ان کی نیا آنے والا ڈرامہ سیریل عبداللہ کادوانی کی پیشکش ’دل گمشدہ‘ ہے جس میں ان کے ساتھ آغا علی اور حنا الطاف بھی موجود ہیں۔ اپنے کیریئر کی ابتدا غیر روایتی کرداروں سے کرنے کے بارے میں امر خان نے بتایا کہ جب بھی آپ کو کسی اچھی چیز کی پیشکش ہو تو آپ کو جھپٹ لینا چاہیے۔ ’گھگھی سے میرے کیریئر کی ابتدا ہونا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ اس ڈرامے میں ایک بہترین کہانی اور ایک منفرد کردار کے ساتھ میرے کرنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ گھگھی واقعی میرے دل کے بہت قریب ہے۔‘
اپنے دوسرے ڈرامے ’بیلا پور کی ڈائن‘ کی بات کرتے ہوئے امر نے کہا کہ جب وہ ’گھگھی‘ کررہی تھیں تواس ہی دوران ان کو اس ڈرامے میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی جس کی ہدایات سیفی حسن دے رہے تھے جنہوں نے اس سے قبل ’سنگ مرمر‘ اور ’سمی‘ جیسے ڈراموں کی ہدایات دی تھیں۔ ’ڈائن کے اس مشکل کردار کے علاوہ سیفی حسن، ہم ٹی وی، اور مومنہ درید پروڈکشن جیسے نام میرے ہاں کرنے کے لیے کافی تھے۔ ڈائن کا کرادر میرے لیے واقعی ایک تھرل اور چیلنج تھا لیکن مجھے اسے کرنے میں بہت لطف بھی آیا۔‘

’بیلا پور کی ڈائن‘ تین اہم ایوارڈز کے لیے نامزد کی گئی ہے۔ (فوٹو:انسٹا گرام)

امر نے مزید بتایا کہ فلم کی تعلیم اور تھیٹر کے تجربے کی وجہ سے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ مشکل کردار ادا کریں اور انہیں اس ہی میں زیادہ مزا آتا ہے۔
جب امر سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کہتے ہوں کہ بیلا پور کی ڈائن جارہی ہے تو انہوں نے کہا ’ان کے خیال میں کسی بھی اداکار کے لیے سب سے فخر کی بات یہ ہے کہ اسے اس کے کردار کے نام سے جانا جائے۔ "یہ اداکار کا اپنے مداحوں کے ساتھ ایک تعلق ہوتا ہے جس سے حاصل ہونے والی خوشی ناقابل بیان ہے۔‘
اس سال ’بیلا پور کی ڈائن‘ کے لیے تین اہم ایوارڈز میں نامزد ہونے کے بارے میں امر خان نے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اپنے دوسرے ڈرامے ہی سے وہ ملک کے ہر بڑے فورم پر نامزد ہیں اور اپنے کام اور انڈسٹری کی نمائندگی کررہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرانہیں ایوارڈ نہیں بھی ملتا تو وہ دکھی نہیں ہوں گی کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ایک اداکار کا دھیان اس کے کام پر زیادہ ہونا چاہیے تاکہ اس کے کردارعوام، ناقدین اور شعبے کے لوگوں کی پسندیدگی حاصل کرسکیں۔  

امر خان کہتی ہیں کہ ایوارڈ نہیں بھی ملتا تو وہ دکھی نہیں ہوں گی۔ (فوٹو:انسٹا گرام)

اپنے نئے آنے والے ڈرامے ’دل گمشدہ‘ کے بارے میں امر کا کہنا تھا کہ اس میں ان کا رول کافی گلیمرس ہے جو ان تمام پچھلے کرداروں سے مختلف ہے اور اس میں ان کے مداحوں کے لیے کافی کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا۔
فلم میں کام کرنے کے حوالے سے امرنے بتایا کہ وہ بہت جلد اس بات اعلان بھی کریں گی۔ ابھی بہت سی چیزیں طے ہونا باقی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پہلی ترجیح فلم ہی ہے اور انہوں نے تعلیم بھی اسی شعبے میں حاصل کی ہے۔ امر خود بھی فلمیں دیکھنے کی بہت شوقین ہیں۔

شیئر: