’امریکہ ترک فوج کو شام میں کارروائی کرنے دے گا‘

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شام سے اپنی فوج واپس بلا لے گا۔ فوٹو: اے ایف پی
امریکہ کی جانب سے شام سے فوج کو واپس بلانے کے بیان کے بعد ترکی نے کہا ہے کہ وہ شام میں موجود ’دہشتگردوں‘ کا صفایا کر دے گا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکی کے وزیرِ خارجہ نے ٹوئٹر پر بیان دیا ہے کہ ’ہم اپنے ملک کی حفاظت اور استحکام کے لیے دہشتگردوں کو مٹائیں گے۔‘
ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان امریکہ کے اس فیصلے کے اعلان کے بعد آیا ہے جس کے تحت وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ شام سے اپنی فوج واپس بلا لے گا۔
واضح رہے کہ ترکی شام میں کرد ملیشیا کو ’دہشتگرد‘ قرار دیتا ہے اور انہیں ختم کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ کرد ملیشیا کی حمایت کرتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سال کی اوائل میں امریکہ نے یہ تک کہا تھا کہ اگر ترکی نے کرد ملیشیا پر حملہ کیا تو امریکہ ترکی کی معیشت کو تباہ کردے گا۔
تاہم حال ہی میں وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ شمالی شام میں موجود داعش کے قیدیوں کا ذمہ دار بھی پھر ترکی ٹھہرایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ترکی جلد اپنے شمالی شام کے لیے بنائے جانے والے منصوبے کو لے کر آگے بڑھے گا (لیکن) یونائٹڈ سٹیٹس آرمڈ فورسز نہ تو ان کی حمایت کریں گے نہ ہی اس میں شامل ہوں گے۔۔۔ امریکی فوج اس علاقے میں اب موجود نہیں ہوگی۔‘
وائٹ ہاؤس کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ہم منصب، ترکی کے صدر طیب اردوگان کی فون کال کے بعد آیا۔ بیان میں امریکہ نے فرانس، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی شام میں حراست میں موجود اپنے ان شہریوں کو واپس نہیں بلا رہے جو داعش کا حصہ بن گئے تھے۔
اس سے قبل، اتوار کو ہی اردوگان اور ٹرمپ نے اگلے مہینے واشنگٹن میں ملنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ شمالی شام میں ’محفوظ مقام‘ بنانے پر بات چیت کر سکیں۔

شیئر: