Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی دو انڈین جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت، انڈیا مزید کا خواہاں

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد تہران نے زیادہ تر بحری آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باوجود ایک غیرمعمولی استثنا دیتے ہوئے چند انڈین جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے بعد انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ انڈیا نے آبنائے ہرمز کے مغرب میں پھنسے اپنے 22 بحری جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ کی درخواست کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا مشرقِ وسطیٰ کی تمام بڑی فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے، جن میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک، ایران، امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں، تاکہ اپنی ترجیحات خصوصاً توانائی کے تحفظ کے معاملے سے انہیں آگاہ کیا جا سکے۔
انڈیا میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے چند انڈین جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ وہ نئی دہلی میں نشریاتی ادارے ’انڈیا ٹوڈے‘ کے ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد تہران نے زیادہ تر بحری آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ ایران کے ساحل کے قریب واقع ہے اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور سمندری راستے سے آنے والی مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس ناکہ بندی کے باعث انڈیا کو دہائیوں کی بدترین گیس بحران کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت نے گھریلو صارفین کو ممکنہ قلت سے بچانے کے لیے صنعتوں کو گیس کی فراہمی کم کر دی ہے۔
انڈین وزارتِ جہازرانی کے خصوصی سیکریٹری راجیش کمار سنہا نے اسی پریس کانفرنس میں بتایا کہ پھنسے ہوئے جہازوں میں چار خام تیل بردار، چھ مائع پٹرولیم گیس لے جانے والے جہاز اور ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز شامل ہیں۔
سنہا کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن کے چارٹر کیے گئے دو انڈین جہاز ’شیولک‘ اور ’نندا دیوی‘ بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور 16 اور 17 مارچ کو انڈیا کی مغربی بندرگاہوں منڈرا اور کانڈلا پہنچ جائیں گے۔

آبنائے ہرمز ایران کے ساحل کے قریب واقع ہے اور دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور سمندری راستے سے آنے والی مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے بتایا کہ ان دونوں جہازوں میں مجموعی طور پر 92 ہزار میٹرک ٹن سے زائد مائع پٹرولیم گیس موجود ہے۔
رندھیر جیسوال نے مزید کہا کہ انڈیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر برکس ممالک کے درمیان مشترکہ موقف قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ برکس گروپ کی موجودہ صدارت انڈیا کے پاس ہے۔ اس گروپ کے اصل ارکان میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جبکہ حالیہ توسیع کے بعد ایران سمیت دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔

 

شیئر: