Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی کانگریس میں اسلام مخالف بیانات پر تنازع، ریپبلکن قیادت سے وضاحت کا مطالبہ

امریکی کانگریس میں ریپبلکن رہنما اس وقت بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں کہ وہ اسلام مخالف بیانات پر اپنا ردِعمل ظاہر کریں کیونکہ ان کی جانب سے دیے جانے والے اشتعال انگیز ریمارکس اور پالیسی تجاویز کے ایک حالیہ سلسلے نے امریکی سیاست میں اسلاموفوبیا پر بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
تازہ تنازع اُس وقت شروع ہوا جب ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان، جن میں ٹینیسی کے اینڈی اوگلز اور فلوریڈا کے رینڈی فائن شامل ہیں، نے ایسے بیانات دیے جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات سے بڑھ کر مسلمانوں کو بطور مذہبی گروہ نشانہ بنانے کی کوشش دکھائی دیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق اس قسم کی زبان کو ڈونلڈ ٹرمپ نے تقویت دی ہے۔ وہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندیاں لگائی تھیں جسے عام طور پر خالصتاً ’مسلم مخالف اقدام‘ قرار دیا جاتا ہے ۔
شہری حقوق کی تنظیمیں اور ڈیموکریٹک قانون ساز کہتے ہیں کہ ’حالیہ اقدام  اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پروپیگنڈا کیے جانے کی وجہ سے امریکی سیاست میں اسلام مخالف بیانیے کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔‘
اینڈی اوگلز نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’مسلمانوں کا امریکی معاشرے میں کوئی مقام نہیں ہے اور پلولرازم ایک جُھوٹ ہے۔‘ ان کے اس بیان پر پر ڈیموکریٹس اور سول رائٹس گروپس کی جانب سے فوری مذمت سامنے آئی۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے اینڈی اوگلز کو ’اسلام مخالف انتہاپسند‘ قرار دیا، جبکہ ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس شری تھانیدر نے مذہبی آزادی کے آئینی تحفظات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’آپ کی اقدار ہی شاید امریکی معاشرے میں جگہ نہیں رکھتیں۔‘
تاہم اینڈی اوگلز کے بیانات کوئی واحد واقعہ نہیں تھے۔ رینڈی فائن بھی لکھ چکے ہیں کہ ’امریکیوں کو اسلام سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے ایک موقعے پر مسلمانوں کے حوالے سے نہایت نازیبا زبان استعمال کی تھی۔
سینیٹ میں ٹومی ٹیوبر ویل، جو الاباما کے گورنر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں، نے بھی امریکہ میں مسلمانوں کے بارے میں انتباہی پیغامات پوسٹ کیے ہیں، جن میں ایک پوسٹ میں بظاہر انہیں دوسروں سے ’الگ تھلگ‘ قرار دیا گیا۔
ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور کانگریس دونوں میں شدید بحث چھڑ گئی۔ اریزونا سے رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے رینڈی فائن پر ’گھناؤنی نسل پرستی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ کیا ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن اس پر کوئی کارروائی کریں گے؟
’ایک سنجیدہ مسئلہ‘
تاہم ریپبلکن قیادت نے اب تک ان بیانات کی براہِ راست مذمت کرنے سے زیادہ تر گریز ہی کیا ہے۔
جب اینڈی اوگلز کی پوسٹ کے بارے میں استفسار کیا گیا تو سپیکر مائیک جانسن نے صرف اتنا کہا کہ ’کچھ ارکان نے جو زبان استعمال کی، یہ ’وہ زبان نہیں ہے جو میں استعمال کرتا۔‘
انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’امریکہ میں اسلامی قانون کے نفاذ کے خدشات ’ایک سنجیدہ مسئلہ‘ ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ردِعمل اس مسئلے کا سامنا کرنے میں وسیع تر ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی تعصب کو مسترد کرنے کے لیے ایک سادہ نوعیت کا بیان دینا سیاسی طور پر آسان تھا لیکن ایوان کے ریپبلکن رہنماؤں کی طرف سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ادھر ایسا لگتا ہے کہ ان بیانات کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایک تجزیے کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک قریباً 100 ریپبلکن ارکان کانگریس نے سوشل میڈیا پر اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں پوسٹس کی ہیں اور ان میں قریباً سب ہی منفی نوعیت کی تھیں۔
ان میں سے دو تہائی پوسٹوں میں اسلام، شریعت، قانون، انتہاپسندی یا دہشت گردی جیسے موضوعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔
اس تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض قانون سازوں نے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا ان کی اسلامی ممالک سے امریکہ نقل مکانی پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے قانون ساز سب سے زیادہ پوسٹس کرنے والوں میں شامل تھے۔ تجزیے کے مطابق چِپ رائے نے رواں سال اسلام کے حوالے سے 100 سے زیادہ پوسٹس کیں۔
ناقدین کے مطابق یہ سوشل میڈیا سرگرمی دراصل ریپبلکن پارٹی کے کچھ حصوں میں اُبھرنے والی ایک وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف بیانات کو ایسے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو معاشی دباؤ اور ایران کے ساتھ جاری امریکی تنازعے کے بارے میں فکرمند ہیں۔
سول رائٹس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ’یہ بیانیہ حکومت سے باہر موجود انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کے نظریات سے بھی ملتا جلتا ہے، جو مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا مسلمانوں کی نقل مکانی پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔‘
مسلمانوں کے خلاف یہ شدت اب قانون سازی کی تجاویز تک پہنچ چکی ہے۔
قریباً 40 ریپبلکن قانون سازوں جن میں اینڈی اوگلز اور رینڈی فائن بھی شامل ہیں،نے مسلم اکثریتی ممالک سے امیگریشن پر پابندی لگانے کی تجاویز پیش کی ہیں یا ان کی حمایت کی ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ ’ایسی تجاویز قومی سلامتی کے لیے ہیں جب کہ مخالفین کے مطابق یہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور مذہبی امتیاز کے درمیان حد کو دُھندلا دیتی ہیں۔‘
چند ریپبلکن رہنماؤں نے اس بحث کے انداز پر عدم اطمینان بھی ظاہر کیا ہے۔
نارتھ کیرولائنا کے تھام ٹلس نے اینڈی اوگلز کے بیانات کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا، جبکہ نیبراسکا کے ڈان بیکن نے آئین کی اس شق کی طرف اشارہ کیا جو سرکاری عہدوں کے لیے مذہب ظاہر کرنے کو ممنوع قرار دیتی ہے۔

 

شیئر: