سعودی خواتین اب موسم کی پیشگوئی بھی کریں گی

ماجدہ نے کہا کہ اس شعبے میں شامل ہوئی تھی تو مختلف چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا تھا (فوٹو: عکاظ)
موسم کے اچھے یا برے ہونے کی خبر ماہرین موسمیا ت ہمیں بتاتے ہیں۔ یہ شعبہ آج تک مردوں کے ہاتھوں میں تھا مگر سعودی عرب میں خواتین جہاں دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہا منوارہی ہیں، وہیں موسم کا حال بتانے اور ماہرین موسمیات کا کردار ادا کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔
عکاظ اخبار کے مطابق سعودی محکمہ موسمیات نے تین خواتین کو بھرتی کیا ہے جو اس شعبے میں مہارت حاصل کرچکی ہیں۔
موسمیاتی امور میں تربیت حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ماجدہ العازمی نے بتایا ہے کہ ماہر موسمیات کے طور پر کیریئر بنانے کے لیے وہ اس شعبہ میں آئیں ہیں۔
انہوں نے کہا ہے ’جس وقت اس شعبے میں شامل ہوئی تھی تو مجھے مختلف چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا تھا مگر تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور آج اپنی منزل تک پہنچ گئی ہوں۔‘

سمیرہ العسیری محکمہ موسمیات میں بین الاقوامی تعلقات کی کوآرڈینیٹر ہیں۔ فوٹو: عکاظ

ماجدہ العازمی ان تین سعودی خواتین میں سے ایک ہیں جوسعودی محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی تحفظ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ محکمے میں پروگرامر اور آب و ہوا کی تجزیہ کار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’میں سعودی خواتین کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ اس نئی فیلڈ میں آئیں اور اپنی صلاحیتوں کو منوائیں۔‘
العازمی نے کہا، ’جب میں نے جدہ کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں موسمیات کے حوالے سے کورس شروع کیا تو اس وقت سعودی عرب میں خواتین کے لیے اس حوالے سے کوئی الگ کورس کا  انتظام نہیں تھا۔‘
 
 ان کا کہنا تھا، ’محکمے کی اسکالر شپ کے تحت ایک سالہ خصوصی کورس کرنے برطانیہ گئی اور انتظامیہ و ساتھیوں کی مدد سے اس پیشے کے چیلنجوں پر قابو پایا ہے۔‘

ماجدہ العازمی نے کہا ’سعودی خواتین اس نئی فیلڈ میں آئیں اور اپنی صلاحیتوں کو منوائیں‘۔ فوٹو:عکاظ

العازمی نے کام کے حوالے سے بتایا، ’محکمے میں میرا کام طویل مدتی اور سہ ماہی پیشگوئی ہے۔ خطے کی آب و ہوا، درجہ حرارت اور بارش کے حوالے سے تقابلی تجزیہ دیتی ہوں۔‘
محکمہ موسمیات میں کام کرنے والی دوسری سعودی خاتون سمیرہ العسیری ہیں جو بین الاقوامی تعلقات کی کوآر ڈینیٹر ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’عالمی محکمہ موسمیات کی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی طرف سے جاری کردہ تکنیکی ہدایات اور تقاضوں کو مد نظر رکھنا میرے فرائض میں شامل ہے۔‘ 
سمیرہ العسیری نے کہا، ’سعودی عرب  ڈبلیو ایم او اور کچھ دیگرعلاقائی تنظیموں کا رکن ہے لہذا  ہمیں ان تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے کہا، ’عالمی کانفرنسوں اور اجلاسوں کی سفارشارت اور قراردادوں کی روشنی میں رپورٹیں تیار کرتی ہوں۔‘
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: